خیبر پختونخوا حکومت این ایف سی اجلاس میں شریک، صوبے اور عوام کا مقدمہ لڑے گی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت 4 دسمبر کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اجلاس میں شریک ہوگی اور ’صوبے اور اپنی عوام کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑے گی‘۔

11ویں این ایف سی کی تشکیل، رواں برس 22 اگست کو وفاقی تقسیم شدہ وسائل کو مرکز اور صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے ایک نئے ایوارڈ کو حتمی شکل دینے کی غرض سے کی گئی تھی، این ایف سی کا اجلاس 27 اگست کو ہونا تھا، جو نامعلوم وجوہات کی بنا پر 29 اگست تک مؤخر کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد اجلاس سندھ حکومت کی درخواست پر سیلابی صورتحال کے باعث دوبارہ ملتوی ہوا، بعدازاں یہ اجلاس 17 نومبر پھر 18 نومبر کو شیڈول کیا گیا، تاہم وزیر اعظم آفس کی درخواست پر ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا۔

رواں ہفتے کے آغاز میں وزیر اعلیٰ آفریدی نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت این ایف سی کے تحت صوبے کو 1.3 کھرب روپے ادا کرنے کی مقروض ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ قبائلی علاقوں کو 2018 میں انتظامی طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا لیکن مالی طور پر ابھی تک انضمام نہیں ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے این ایف سی کا حصہ 2018 سے خیبر پختونخوا کو ادا نہیں کیا گیا، جو کہ ’آئینی خلاف ورزی‘ ہے۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کی ان تجاویز پر غور کرنا چاہیے جو صوبے میں دیرپا امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، کیونکہ ’بند دروازوں کے پیچھے کیے گئے فیصلے‘ خیبر پختونخوا کو متاثر کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ آفریدی نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت ہماری تجاویز پر عمل کرے تو فیصلوں کا نفاذ اور امن و امان برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہوگی، اُن کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ صوبے میں امن سے متعلق کسی بھی فیصلے میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔

وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ’اصل طاقت رکھنے والوں‘ نے ہمیشہ کوشش کی کہ پی ٹی آئی کو تصادم کی طرف دھکیلا جائے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ پارٹی پُر امن رہے گی، تاہم قربانی دینے سے کبھی نہیں ہچکچائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مسلسل کوششیں کی گئیں کہ پی ٹی آئی کو تنہا کیا جائے اور پُر امن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور ان کے تمام مہمانوں، حتیٰ کہ بہنوں کو بھی ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام پارلیمنٹیرین منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے باہر پُرامن احتجاج کریں گے، وہ عمران خان کی بہنوں کے ساتھ اڈیالہ جیل بھی جائیں گے جبکہ صوبائی حکومت پارٹی قیادت کی ہدایات پر عمل کرے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا میں عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کے بعد وہ 27 نومبر کو اڈیالہ جیل گئے تاکہ ملاقات کر سکیں، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی، باوجود اس کے کہ انہوں نے پوری رات جیل کے باہر دھرنا دیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا اس لیے دیا کیونکہ ان کی جماعت کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا تھا، انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جہاں بعض وزرائے اعلیٰ کے لیے سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور پاکستان ایئر فورس کے طیارے پیش کیے جاتے ہیں، وہاں اُن کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا۔

سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا کوئی حصہ بھی شدت پسندوں کے کنٹرول میں نہیں، تاہم بغیر نام لیے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’پورا ملک ایک ہی شخص کے کنٹرول میں ہے‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وادی تیراہ میں ان کے خاندان کی ملکیت میں جائیدادیں ہیں تاہم اُن کی ذاتی ملکیت میں کوئی جائیداد نہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے خلاف حالیہ ڈاکیومنٹری عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش تھی، لیکن عوام نے ان لوگوں کی بات پر یقین نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام سب کچھ جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کون جھوٹ بول رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ اپنا کام کریں اور تب ہی ملک ترقی کرے گا۔

Leave a Reply