5 ہزار سے زائد افغانی امریکا کیلئے خطرہ قرار ، آپریشن الائی ویلکم پر سوالات اٹھ گئے

5 ہزار سے زائد افغانی امریکا کیلئے خطرہ قرار ، آپریشن الائی ویلکم پر سوالات اٹھ گئے

کچھ افراد کی پچھلی سرگرمیاں اور ممکنہ تعلقات ایسے ہیں جو امریکی شہریوں اور قانون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، امریکی حکام

امریکا میں مقیم 5 ہزار سے زیادہ افغانی خطرہ قرار، آپریشن الائی ویلکم پرسوال اٹھنے لگے۔  امریکا میں 2021 کے بعد آئے ہزاروں افغان مہاجرین امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن گئے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ کچھ افراد کی پچھلی سرگرمیاں اور ممکنہ تعلقات ایسے ہیں جو امریکی شہریوں اور قانون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

نیشنل گارڈ پر فائرنگ اور دہشت گردانہ منصوبوں میں ملوث افراد کی وجہ سے امریکی حکام افغان مہاجرین کی سخت نگرانی کر رہے ہیں۔

Remember this gem from Biden’s White House Press Secretary Jen Psaki?

“I can absolutely assure you that no one is coming into the United States of America who has not been through a thorough screening and background check process.”

— Conservative Brief (@ConservBrief) November 30, 2025

نئے آنے والے ویزا کیسز پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، امریکا میں 2021 کے بعد منتقل ہونے والے افغان مہاجرین میں سے 5,005 افراد کو ’نیشنل سیکیورٹی‘ خدشات کی بنا پر ’نشان زد‘ کیا گیا ہے۔

مجموعی طور پر 6,868 افغان مہاجرین سے متعلق ’ممکنہ منفی معلومات‘ تھیں، جن میں سے 956 افراد پر عوامی تحفظ کے خدشات اور 876 پر فراڈ کے شبہات تھے۔

یہ معلومات امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے سینیٹر Chuck Grassley کو فراہم کی تھیں۔

واضح رہے کہ ان افغانوں کو امریکا میں لانے کا پروگرام ’آپریشن الائی ویلکم‘ کے تحت عمل میں تھا، جو 2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد بنایا گیا تھا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ستمبر 2025 تک تقریباً 885 افراد ایسے تھے جن پر سکیورٹی خدشات ابھی بھی برقرار تھے۔

The number of Americans the Uniparty is willing to sacrifice to make themselves feel noble about helping the Afghans is unlimited.

— Laura Ingraham (@IngrahamAngle) November 29, 2025

Leave a Reply