Posted in

کراچی: سانحہ گل پلازہ؛ 33 گھنٹے بعد آگ پر قابو، جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی

کراچی: شہرِ قائد کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ کو 33 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، جس کے بعد  کولنگ کا عمل تاحال جاری ہے۔

چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹ رہی ہیں جبکہ ہتھوڑوں کے ذریعے دیواریں بھی توڑی جا رہی ہیں تاکہ اندر پھنسے افراد تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

تیسری منزل پر ممکنہ طور پر افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع پر فائر فائٹرز اتوار کی شب عمارت میں داخل ہوئے، جلی ہوئی دکانوں میں محدود سرچ آپریشن کیا گیا، جہاں ریسکیو ورکرز نے صدائیں لگا کر زندگی کی تلاش کی اور تھرمل کیمروں کی مدد سے جائزہ لیا۔

سرچ آپریشن کے دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے انسانی اعضا ملے، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں جبکہ 20 سے زائد موبائل فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی رپورٹ ہوئی ہے۔

70 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بڑا المیہ ہیں، گورنر سندھ

گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے گل پلازہ پہنچ کر جاری ریسکیو آپریشن کا تفصیلی جائزہ لیا، تاہم اس دوران ڈپٹی کمشنر ساؤتھ نے گورنر سندھ کو امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ 28 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہ پانا عوام کے لیے شدید اضطراب کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ 70 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں اور گل پلازہ کا واقعہ اب ایک قومی سانحہ بن چکا ہے، اس وقت اولین ترجیح قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ ہے جبکہ آگ لگنے کے اسباب کی تحقیقات بعد میں کی جائیں گی۔

گورنر سندھ کے مطابق مارکیٹ کی بحالی کے لیے شہر کے تین بڑے بلڈرز سے مسلسل رابطے میں ہیں، موقع پر ڈھائی ہزار پانی کی بوتلیں پہنچا دی گئی ہیں اور متاثرین کے لیے کھانے کا انتظام ذاتی طور پر کریں گے جبکہ ایک حاملہ خاتون کے اندر موجود ہونے کی اطلاع کو بھی انہوں نے انتہائی تشویشناک قرار دیا۔

ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے ٹیمیں تشکیل

کمشنر کراچی کے احکامات پر گل پلازہ سانحے میں ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے 30 افسران پر مشتمل 6 ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

 ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق تمام ٹیمیں متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں رہیں گی اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں گی۔

ہر ٹیم میں ایک سربراہ، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار سمیت 5 افسران شامل ہیں جبکہ مختلف اوقات میں مختلف افسران کو کمانڈنگ ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

آگ تیسرے درجے کی قرار

واضح رہے کہ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی۔

حکام نے آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا ہے، جس پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے، آگ لگنے کے باعث گراؤنڈفلورکی تمام دکانیں جل گئی ہیں۔

فائر فائٹرز کو عمارت میں تپش کے باعث اندر جانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، شاپنگ پلازہ میں ایک ہزار 200 سے زائد دکانیں ہیں۔

چیف فائرآفیسر کا کہنا تھا کہ عمارت میں زوردار دھماکا ہوا،جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی ہے، دھماکا گیس لیکج کے باعث ہوا۔

Leave a Reply