عالمی سطح پر پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، ٹرمپ کی غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کی دعوت
پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کا واضح حامی رہا ہے
غزہ فلسطین میں جاری جنگ کے خاتمے، انسانی بحران کے حل اور تعمیرِ نو کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے Gaza Peace Plan (GPP) اور اس کے تحت مجوزہ Peace Board / Board of Peace پر عالمی سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے۔
اسی سلسلے میں صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک کے سربراہان کو دعوت نامے ارسال کیے ہیں، جن میں وزیراعظم پاکستان کو بھی اس اہم عالمی بورڈ میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ اسے بین الاقوامی سفارتی محاذ پر ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس دعوت سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمہ دار، باوقار اور حل کی طرف لے جانے والے فریق کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کی رائے اور کردار غزہ جیسے حساس عالمی مسئلے میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی تسلسل کے ساتھ کی گئی مؤثر ریاستی سفارت کاری کا نتیجہ ہے، جس میں سول اور ملٹری ڈپلومیسی کی مربوط حکمتِ عملی، بروقت رابطہ کاری اور قومی مفادات کے مطابق دانشمندانہ فیصلے شامل ہیں۔
پاکستان کی عالمی ساکھ، سفارتی وزن اور اعتماد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا عملی اظہار اس دعوت کی صورت میں سامنے آیا ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ممکنہ شرکت کسی بلاک یا کیمپ کی سیاست کا حصہ نہیں ہوگی، بلکہ اس کی بنیاد فلسطینی عوام، بالخصوص غزہ کے نہتے شہریوں پر ہونے والے مظالم کم کرنے، فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور منصفانہ و پائیدار سیاسی حل کی عملی حمایت پر مبنی ہوگی۔
پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے حقِ خود ارادیت، شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد اور تعمیرِ نو کا واضح حامی رہا ہے۔
اس مجوزہ Peace Board میں شمولیت پاکستان کو موقع فراہم کرے گی کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی کردار ادا کرے، عالمی فیصلوں میں اپنا اصولی مؤقف شامل کرے اور ایسے مکینزمز کا حصہ بنے جو براہِ راست فلسطینی عوام کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی مکینزمز میں پاکستان کی موجودگی اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے کہ فیصلے یک طرفہ نہ ہوں، فلسطینی مفادات کا تحفظ ہو، امدادی اور بحالی کے اقدامات شفاف اور منصفانہ رہیں، اور مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ و مضبوط موقف تشکیل پائے۔
مجموعی طور پر یہ دعوت پاکستان کے لیے اعتماد، ذمہ داری اور عالمی وقار کی علامت ہے، اور حکومت پاکستان اسے انسانیت، امتِ مسلمہ اور انصاف پر مبنی دیرپا حل کے لیے ایک مثبت اور مؤثر کردار میں ڈھالنے کی تیاری کر رہی ہے۔