Posted in

جاپان کے سمندر میں ڈوبا ہوا پراسرار شہر؟ حقیقت نے سائنسدانوں کو بھی حیران کردیا

جاپان کے سمندر میں ایک حیران کن قدرتی ساخت دریافت ہوئی ہے جسے دیکھ کر سائنسدان بھی حیران رہ گئے ہیں۔

جاپان کے جزیرے یونگونی کے قریب نیلگوں سمندر کی گہرائی میں ایک حیران کن قدرتی ساخت موجود ہے جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کسی قدیم شہر کے کھنڈرات ہوں۔

یہ ساخت سمندر کی سطح سے صرف چھ میٹر نیچے شروع ہوتی ہے اور چوبیس میٹر کی گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک وسیع، سیڑھی نما قلعے جیسی دکھائی دیتی ہے جس کے باعث بعض افراد اسے کسی قدیم تہذیب کی نشانی سمجھتے رہے ہیں۔

تاہم ماہرینِ ارضیات کی اکثریت اس خیال سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کے مطابق یہ ساخت قدرتی عمل کا نتیجہ ہے جو ریتیلے اور کیچڑ نما پتھروں میں دراڑوں، زمینی دباؤ اور طویل عرصے کی کٹاؤ کے باعث بنی۔

یہ دریافت 1987 میں ایک غوطہ خور استاد نے کی جس کے بعد اس نے سائنس دانوں کی خاص توجہ حاصل کرلی کیونکہ اس کی ترتیب اور جسامت عام قدرتی ساختوں سے مختلف دکھائی دیتی تھی۔

یہ ڈھانچہ بڑے بڑے پتھریلے تختوں پر مشتمل ہے جو سیڑھیوں یا چبوتروں کی مانند ترتیب میں نظر آتے ہیں۔ ان کے کنارے نسبتاً سیدھے اور کونے واضح ہیں جو اس پیمانے پر قدرتی طور پر کم دیکھے جاتے ہیں۔

اسی وجہ سے کچھ ماہرین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ شاید یہ انسانی ہاتھوں سے تراشی گئی ہو اور ہزاروں سال قبل سمندر میں ڈوب گئی ہو تاہم یہ نظریہ شدید اختلاف کا شکار رہا۔

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ایسی کئی قدرتی مثالیں موجود ہیں جہاں پتھر حیرت انگیز حد تک ہموار اور جیومیٹریائی شکلیں اختیار کرلیتے ہیں۔

یونگونی کا علاقہ زمینی فالٹ زون میں واقع ہے اور یہاں زلزلے عام ہیں۔ ایسے جھٹکوں سے پتھروں میں باقاعدہ دراڑیں پڑتی ہیں جو وقت کے ساتھ سیڑھی نما ساخت بنا دیتی ہیں۔ اس کے بعد سمندری لہریں اور دھارائیں ان دراڑوں کو مزید کاٹتی اور سطحوں کو ہموار کرتی رہتی ہیں۔

قریبی ساحلی چٹانوں کا جائزہ بھی اسی طرز کی قدرتی ساخت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگرچہ وہ ہوا اور بارش کے باعث زیادہ گھسی ہوئی ہیں۔

حالیہ تحقیقی مشاہدات میں بھی کسی انسانی سرگرمی یا آثار قدیمہ کے شواہد نہیں ملے۔ ماہرین کے مطابق یہ سب کچھ قدرتی کٹاؤ اور موسمی عمل کا نتیجہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر زمین بغیر انسانی مداخلت کے اتنی شاندار اور پراسرار ساختیں بناسکتی ہے تو یہی بات بذاتِ خود کم حیرت انگیز نہیں۔

Leave a Reply