ایلون مسک کا اوپن اے آئی اور مائیکرسافٹ سے 134 ارب ڈالر حرجانے کا مطالبہ
ایلون مسک دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں جن کی دولت کا تخمینہ تقریباً 700 ارب ڈالر ہے۔
ایلون مسک نے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ پر بڑا الزام عائد کرئے ہوئے 134 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کردیا۔
ایلون مسک کا مؤقف ہے کہ اوپن اے آئی نے اپنے قیام کے وقت طے شدہ فلاحی مقصد سے ہٹ کر کام کیا جس کے ذریعے انہیں دھوکا دیا گیا۔
ہرجانے کی اس بھاری رقم کا تخمینہ ایک مالیاتی ماہر کی جانب سے پیش کیا گیا ہے جو پیچیدہ تجارتی مقدمات میں مالی نقصان اور اداروں کی قدر کے تعین میں مہارت رکھتے ہیں۔
ماہر کے مطابق ایلون مسک اوپن اے آئی کی موجودہ مجموعی قدر میں نمایاں حصے کے حق دار ہیں جو اس وقت تقریباً 500 ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ دعویٰ ایلون مسک کی اس ابتدائی سرمایہ کاری پر مبنی ہے جو انہوں نے 2015 میں ادارے کے قیام کے وقت فراہم کی تھی جس کی مالیت تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ابتدائی فنی رہنمائی اور کاروباری تعاون کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔
ماہر کے مطابق اگر اس سرمایہ کاری کو موجودہ قدر سے جوڑا جائے تو یہ رقم تقریباً 3500 گنا اضافے کے برابر بنتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اوپن اے آئی نے مبینہ طور پر 65 ارب سے 109 ارب ڈالر تک ناجائز فائدہ حاصل کیا جب کہ مائیکروسافٹ کو 13 ارب سے 25 ارب ڈالر تک کا فائدہ پہنچا کیونکہ اس ادارے کے پاس اوپن اے آئی کے تقریباً 27 فیصد حصص ہیں۔
ایلون مسک کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہیں ایک ابتدائی سرمایہ کار کی طرح معاوضہ ملنا چاہیے، جیسا کہ عام طور پر نئی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے والوں کو وقت کے ساتھ کئی گنا منافع حاصل ہوتا ہے۔ تاہم اس مقدمے میں مالی پہلو کے ساتھ ساتھ اصولی اختلافات بھی نمایاں ہیں۔
ایلون مسک کی ذاتی دولت کا تخمینہ تقریباً 700 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے جس کی بنیاد پر وہ دنیا کے امیر ترین فرد سمجھے جاتے ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق ان کی دولت کئی دیگر معروف کاروباری شخصیات سے کہیں زیادہ ہے جب کہ ماضی میں ایک علیحدہ فیصلے کے تحت انہیں تاریخ کا سب سے بڑا معاوضہ پیکیج بھی منظور کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی نے اس مقدمے کو سنجیدہ مالی تنازع کے بجائے ہراسانی کی ایک مسلسل کوشش قرار دیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے غیر معمولی اور توجہ حاصل کرنے والے دعوے کیے جارہے ہیں۔ یہ مقدمہ آئندہ اپریل میں ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں سنا جانا ہے۔