Posted in

طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرِفہرست، دی ڈپلومیٹ

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق طالبان رجیم کی حکمرانی کے مضر اثرات میں پاکستان سرِفہرست ملک ہے۔

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان رجیم کی حکمرانی کے منفی اور مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 2021 میں طالبان کی افغانستان میں واپسی کو خطے میں امن اور استحکام کا موقع سمجھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے۔

دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے طالبان حکومت کو سفارتی اور انسانی بنیادوں پر بھرپور حمایت فراہم کی، عالمی سطح پر ان کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کی اور اقتصادی و سیاسی تعاون کے دروازے کھلے رکھے۔ اس کے باوجود پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال بتدریج بگڑتی چلی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ اور داعش خراسان جیسے دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم رہے جب کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتی رہی۔

بین الاقوامی جریدے کے مطابق سرحد پار حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد سب سے زیادہ ملوث پائے گئے جب کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت کی شرح ستر فیصد تک پہنچ چکی ہے جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنگین چیلنج بن گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے کابل میں دوبارہ اپنی سفارتی موجودگی قائم کرکے طالبان قیادت کے ساتھ روابط کو تیزی سے وسعت دی ہے۔ طالبان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات پاکستان کے لیے ایک نئے اسٹریٹیجک خطرے کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

دی ڈپلومیٹ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں پاکستان اب تک اسی ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان نے ابتدا میں تصادم کے بجائے مکالمے، ثالثی اور علاقائی سفارتکاری کو ترجیح دی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے دو طرفہ بات چیت، مذہبی ثالثی اور علاقائی سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات کی ثالثی سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی سرحدی علاقوں سے منتقلی پر بھی اتفاق ہوا تاہم وعدوں کے باوجود طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔

وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث پاکستان نے مکالمے کے ساتھ ساتھ محدود عسکری کارروائی کی حکمتِ عملی اختیار کی۔ ستمبر اور اکتوبر 2025 میں پاکستان کو افغانستان میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا پڑا۔

اس کے باوجود رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سفارتی راستے مکمل طور پر بند نہیں کیے جب کہ ترکی اور قطر پاکستان اور طالبان کے درمیان ثالثی کے عمل میں مسلسل شامل رہے۔

بین الاقوامی جریدے نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال اور طالبان کی پالیسیوں کے اثرات پاکستان کے لیے مستقبل میں بھی ایک سنجیدہ سلامتی اور سفارتی چیلنج بنے رہیں گے۔

Leave a Reply