پاکستان میں خوراکوں کے متعلق موسم کے مطابق مختلف قسم کے تاثر پائے جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی خوراک مچھلی ہے۔۔
ان غلط فہمیوں کا سب سے بڑا شکار مچھلی بنی ہے، جسے ہمارے ہاں صرف سردیوں کی خوراک سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ مچھلی نہ صرف ذائقے سے بھرپور ہے بلکہ اعلیٰ معیار کے پروٹین، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور کئی اہم مائیکرو نیوٹرینٹس کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔
اکثر لوگ مچھلی کھانے کے بعد “گرمی” محسوس ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ اس میں ایک حصہ نفسیاتی ہوتا ہے، کیونکہ ہم بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں کہ مچھلی گرم ہوتی ہے۔ بعض اوقات اچھی اور متوازن خوراک ملنے سے جسم میں توانائی بڑھتی ہے، جسے لوگ غلطی سے گرمی سمجھ لیتے ہیں۔
تاہم ایک مسئلہ واقعی حقیقت پر مبنی ہے، اور وہ ہے مچھلی کھانے کے بعد معدے میں تیزابیت یا جلن۔ اس کی وجہ مچھلی نہیں بلکہ اسے پکانے کا ہمارا غلط انداز ہے۔ مچھلی کو زیادہ تیل، وہ بھی اکثر پرانے تیل میں، اور تیز مرچ مصالحوں کے ساتھ تلنے سے اس کی غذائیت ختم ہو جاتی ہے اور معدہ متاثر ہوتا ہے۔ یہی چیز بعد میں ایسڈ ریفلکس یا معدے کی جلن کا سبب بنتی ہے، جسے ہم مچھلی کی “گرمی” قرار دے دیتے ہیں۔
لہٰذا اگلی بار اگر مچھلی کھانے کے بعد کوئی تکلیف محسوس ہو تو مچھلی کو قصوروار ٹھہرانے کے بجائے اپنی مجموعی خوراک اور پکانے کے طریقے پر غور کریں۔ مچھلی کو گرِل کرکے یا ہلکے تیل میں کم مصالحوں کے ساتھ پکائیں، تاکہ اس کے فوائد بھی حاصل ہوں اور معدہ بھی محفوظ رہے۔
پاکستان میں” مچھلی” کے متعلق پائے جانے والا غلط تاثر