لاہور پولیس کی خاتون ایس پی سٹی شہربانو نقوی پر اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرنے اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے لاہور کے معروف ڈاکٹر علی زین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنگین دعوے کیے ہیں۔
ڈاکٹر علی زین کے مطابق ان کے کلینک پر آنے والی ایک خاتون مریضہ کو لیزر سرجری تجویز کی گئی، جس کے لیے لاکھوں روپے فیس وصول کی گئی۔ تاہم سرجری کے بعد مریضہ کا مسئلہ حل نہ ہو سکا بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں۔ ڈاکٹر کے بقول انہوں نے نہ صرف فیس واپس کر دی بلکہ آئندہ علاج میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی، جس پر معاملہ ختم ہو چکا تھا۔
ڈاکٹر علی زین کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود مریضہ نے خاتون ایس پی سے رابطہ کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر پولیس ایس ایچ او کے ذریعے انہیں بلوایا اور مریضہ کو لاکھوں روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ان کے مطابق یہ ایک طبی تنازعہ تھا جس کا حل متعلقہ اداروں، بالخصوص ہیلتھ کمیشن کے دائرہ کار میں آتا ہے، نہ کہ پولیس مداخلت کا۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر کے وکیل نے انکشاف کیا کہ ان کے موکل کو طاقتور حلقوں کی جانب سے وارننگ دی گئی کہ اگر معاملہ طے نہ کیا گیا تو ہیلتھ کمیشن میں ان کے خلاف متعدد کیسز بنا دیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایس پی سٹی شہربانو نقوی نے ڈاکٹر علی زین کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے نہ دباؤ ڈالا اور نہ ہی کسی قسم کی ہراسانی کی۔ ان کے مطابق مریضہ کی درخواست پر صرف ابتدائی انکوائری کی گئی اور ڈاکٹر کو مشورہ دیا گیا کہ وہ مریضہ سے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کریں۔
پولیس حکام کے مطابق تاحال کسی فریق کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور معاملہ انکوائری کے مرحلے میں ہے، جبکہ ڈاکٹر علی زین کے خلاف موصول ہونے والی دیگر شکایات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
لاھور۔۔۔۔ ڈاکٹر کی ایس پی سٹی شہر بانو نقوی کے خلاف پریس کانفرنس۔۔۔۔۔۔