Posted in

ہنگری میں سیاسی انقلاب؛ نئے وزیراعظم منتخب ہونے والے پیٹر میگیار کون ہیں؟

ہنگری میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں ’’تیسا‘‘ نے زبردست کامیابی حاصل کرکے وکٹر اوربن کی 16 سالہ حکومت کا خاتمہ کردیا ہے جس کے بعد وکٹر اوربن کے سابق وفادار پیٹر میگیار اب ملک کے نئے وزیراعظم ہوں گے۔

سرکاری نتائج کے مطابق پیٹر میگیار کی جماعت نے 53.6 فیصد ووٹ لے کر 199 نشستوں والی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کرلی ہیں جب کہ اوربن کی جماعت صرف 37.8 فیصد ووٹ لے کر 55 نشستوں پر سکڑ کر رہ گئی ہے۔

دریائے ڈینیوب کے کنارے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پیٹر میگیار نے کہا ’’آج رات سچ نے جھوٹ کو شکست دی۔ ہم جیتے کیونکہ ہنگری والوں نے یہ نہیں پوچھا کہ وطن ان کے لیے کیا کرسکتا ہے بلکہ انہوں نے پوچھا کہ وہ اپنے وطن کے لیے کیا کرسکتے ہیں‘‘۔

پیٹر میگیار کون ہیں؟

چالیس سالہ پیٹر میگیار نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور یونیورسٹی کے زمانے میں ہی اوربن کی جماعت میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ کافی عرصے تک اوربن کے وفادار رہے، وزارت خارجہ میں افسر رہے، برسلز میں یورپی یونین میں ہنگری کے نمائندے رہے جب کہ سرکاری کمپنیوں کے بورڈ ممبر بھی رہے۔

ان کی اہلیہ جوڈت وارگا 2019 سے 2023 تک اوربن کی حکومت میں وزیر انصاف تھیں۔

اوربن سے بغاوت کیوں کی؟

2024 میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا۔ ہنگری کی سابق صدر نے بچوں کے جنسی زیادتی کے کیس میں ملوث شخص کو معاف کردیا تھا اور اس معافی پر وارگا نے بطور وزیر انصاف دستخط کیے تھے۔

اس پر ملک بھر میں زبردست احتجاج ہوا جس کے بعد صدر کو مستعفی ہونا پڑا اور وارگا نے پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد پیٹر میگیار نے یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اوربن کی حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا اور اپنی سابقہ اہلیہ کی خفیہ ریکارڈنگ بھی جاری کی جس میں وارگا نے بتایا کہ کیسے اوربن کے ساتھیوں نے کرپشن کیس کی تفتیش میں مداخلت کی کوشش کی تھی۔

پیٹر میگیار کے خلاف الزامات

پیٹر میگیار پر ان کی سابقہ اہلیہ نے گھریلو تشدد کا الزام لگایا اور کہا کہ انہوں نے خفیہ ریکارڈنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

اس سال فروری میں ان پر جنسی اسکینڈل اور منشیات استعمال کرنے کے الزامات بھی لگے۔ پیٹر میگیار نے منشیات کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جال میں پھنسایا گیا ہے۔

پیٹر میگیار مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں

پیٹر میگیار نے ہنگری کی معیشت کو سنبھالنے، یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور 2035 تک روسی توانائی پر انحصار کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یوکرین کو یورپی یونین میں فوری شمولیت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق پیٹر میگیار کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج تقسیم شدہ ملک کو متحد کرنا ہوگا تاہم نوجوان ہنگری والوں میں امید کی لہر سمجھے جارہے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ وہ 16 سال کی ’’نفرت اور تقسیم‘‘ کی سیاست کے بعد اب ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔

Leave a Reply