یہ تھے ابُو عُـبَـیـدَہ…
وہ جبالیا کے مہاجر کیمپ کا بیٹا تھا، خیموں کی بستی کا فرزند
جسے دنیا چھو کر بھی نہیں گزری تھی، اسے جہان فانی سے اتنا ہی واسطہ تھا جتنا اس کی کمر سیدھی رکھنے کے لیے کافی ہو
اور زادِ راہ میں اتنا ہی اٹھائے پھرتا تھا جو اسے اللہ تک پہنچا دے
جبالیا کے لوگ اسے اچھی طرح جانتے تھے، مگر آج عصر تک خاموش تھے، ابھی ساری زبانیں گواہی دے رہیں کہ ہمارا سپوت سراپا پاکیزگی تھا، ایسی پاکیزگی جس نے ظاہر سے پہلے باطن کو صاف کر لیا ہو
وہ زاہد تھا، یوں لگتا تھا جیسے دنیا اس کے قریب سے گزرتی ہے
مگر اس کے دل میں کہیں ٹھہرتی نہیں
وہ عابد تھا، وہ پرہیزگار تھا، لفظ بولنے سے پہلے اسے تولتا تھا،
قدم اٹھانے سے پہلے اس کا وزن جانچتا تھا
قرآن اس کے ہاتھ کا ساتھی تھا، ذکر اس کے سینے کا مونس،
اور پہلی صف اس کی دائمی قرار گاہ۔ نماز میں بھی جہاد میں بھی صف اول
گویا وہ جانتا تھا کہ جو اللہ کی طرف سبقت لے جائے اللہ اسے قبولیت میں سبقت عطا فرما دیتا ہے
اس نے کبھی پہچان بننے کی کوشش نہیں کی، کبھی نمایاں ہونے کی خواہش نہیں رکھی، لیکن جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے
تو اسے لوگوں کو وہاں دکھا دیتا ہے جہاں وہ خود دکھائی دینا نہیں چاہتا
اس کا ذکر وہاں بلند کر دیتا ہے جہاں وہ خود بلندی کا طالب نہیں ہوتا،
اور اس کے لیے دلوں میں ایسی محبت ڈال دیتا ہے جس کی کوئی ظاہری وجہ نہیں ہوتی
اور یہی وہ راز ہے، نہ آواز میں، نہ تصویر میں، نہ نام میں، بلکہ اس دل میں جو اللہ کے ساتھ زندہ رہا، تو اللہ نے اسے مخلوق کے دلوں میں زندہ کر دیا۔
دنیا بھر کی مائیں ایسے فرزند جنم دینے سے قاصر ہیں۔
رونے والوں کو ایسے ابطال پر رونا چاہیے۔
جبالیا کے مہاجر کیمپ کا بیٹا۔۔۔۔۔