جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق ایک شمالی کوریائی فوجی کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ رضاکارانہ طور پر زمینی سرحد عبور کر گیا۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ فوجی ’جنوبی کوریا میں پناہ لینا چاہتا تھا‘۔
1950 کی دہائی میں جنگ کے بعد جزیرہ نما کوریا کے تقسیم ہونے کے بعد سے دسیوں ہزار شمالی کوریائی شہری جنوبی کوریا فرار ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر پہلے چین کے راستے جاتے ہیں، پھر تھائی لینڈ جیسے کسی تیسرے ملک میں داخل ہو کر آخرکار جنوبی کوریا پہنچتے ہیں۔
تاہم زمینی سرحد کے ذریعے انخلا کے واقعات نسبتاً نایاب ہیں، کیوں کہ یہ علاقہ گھنے جنگلات، بارودی سرنگوں اور دونوں جانب تعینات فوجیوں کی نگرانی میں ہے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری فوج نے ایک شمالی کوریائی فوجی کو حراست میں لیا ہے جس نے اتوار کے روز مرکزی محاذ پر فوجی حد بندی لائن (ایم ڈی ایل) کو عبور کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ فوج نے اس شخص کو ایم ڈی ایل کے قریب شناخت کیا، اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، اور ایک معیاری آپریشن کے ذریعے اسے حراست میں لے لیا۔
فوجی حد بندی لائن غیر فوجی علاقے کے وسط سے گزرتی ہے، جو دونوں کوریا کو الگ کرتی ہے اور دنیا کے سب سے زیادہ بارودی سرنگوں والے علاقوں میں سے ایک ہے۔
کوریائی اتحاد کے قومی ادارے کے سینئر تجزیہ کار ہونگ من نے کہا کہ ممکن ہے کہ فوجی کو علاقے کی واقفیت نے بارودی سرنگوں والے راستے میں آگے بڑھنے میں مدد دی ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تازہ انخلا پیانگ یانگ (شمالی کوریا) کے لیے خوش آئند نہیں ہوگا، کیوں کہ وہ جنوبی کوریا کو سرحدی علاقے میں اپنی فوجی نقل و حرکت اور کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کر سکتا ہے۔