پی ایس ایل میں نئے ’ڈراکشن‘ سسٹم کی گونج، پرانی فرنچائزز مخالف
نئے مجوزہ سسٹم میں ڈرافٹ اور آکشن کو یکجا کیا جائے گا، اس لیے اسے ڈراکشن کا نام دیا جارہا ہے
پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل) اپنے 11ویں سیزن سے پہلے کھلاڑیوں کی بھرتی کے لیے ایک نئے نظام ڈراکشن‘ (Draft + Auction) پر غور کر رہی ہے۔
کرکٹ کی عالمی ویبسائٹ کے مطابق نئے مجوزہ سسٹم میں ڈرافٹ اور آکشن کو یکجا کیا جائے گا، اس لیے اسے ڈراکشن کا نام دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دس سیزنز میں صرف ڈرافٹ استعمال ہوتا رہا، لیکن اس بار لیگ میں ممکنہ طور پر آکشن بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے، کیوں کہ اس بار حیدرآباد اور سیالکوٹ کے نام سے دو نئی فرنچائزز بھی شامل ہوں گی۔
پی سی بی کے مطابق، جمعہ کے اجلاس میں تمام آٹھ فرنچائزز کے نمائندے موجود تھے، جہاں کھلاڑیوں کی ریٹینشن، ڈرافٹ، آکشن یا نئے نظام ’ڈراکشن‘ پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اجلاس کے بعد ایک ورکنگ گروپ قائم کیا گیا تاکہ مزید غور کے بعد حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہن ہے کہ نئے فرنچائزز چاہتے ہیں کہ ریٹینشن کم سے کم ہو تاکہ وہ بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کر سکیں، جبکہ موجودہ فرنچائزز آکشن کے حق میں زیادہ تر نہیں ہیں۔
اس وجہ سے پی ایس ایل انتظامیہ کے لیے کھلاڑیوں کی ریٹینشن اور نئے فرنچائزز کے لیے منصفانہ مواقع فراہم کرنا ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل انتظامیہ نے 26 مارچ سے سیزن کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، اور تمام اسٹیک ہولڈرز نئے نظام کے نفاذ کے منتظر ہیں۔
اس کے علاوہ، ملتان سُلطانز کی ملکیت کے معاملے پر پی سی بی نے اپنا پچھلا فیصلہ بدل کر فرنچائز کو دوبارہ آکشن میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور تکنیکی بولیاں ماہ کے آخر تک وصول کی جائیں گی۔