امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کیلیے ‘بورڈ آف پیس’ قائم کردیا، سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد بھی بورڈ میں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کی نگرانی کے لیے ‘بورڈ آف پیس’ قائم کرتے ہوئے سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر اور اپنے داماد جیرڈ کشنر کو اہم عہدوں پر نامزد کر دیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹونی بلیئر بورڈ کے بانی ایگزیکٹو اراکین میں شامل ہوں گے، جن کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف، اپالو گلوبل مینجمنٹ کے سی ای او مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور امریکی نائب قومی سلامتی مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بورڈ غزہ میں حکمرانی کی صلاحیت سازی، علاقائی تعلقات، تعمیرِ نو، سرمایہ کاری، بڑے پیمانے پر فنڈنگ اور سرمائے کی فراہمی جیسے امور کی نگرانی کرے گا۔
سابق اقوامِ متحدہ اہلکار نِکولے ملادینوف کو ہائی ریپریزنٹیٹو فار غزہ مقرر کیا گیا ہے۔
اعلان میں غزہ ایگزیکٹو بورڈ کے اراکین کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جس میں بلیئر، کشنر اور وِٹکوف کے ساتھ ترکی کے وزیر خارجہ حکان فدان اور قطری سفارتکار علی الثوادی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ امریکی میجر جنرل جاسپر جیفرز کو انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے، جو سکیورٹی آپریشنز، انسانی امداد اور “جامع ڈی ملٹرائزیشن” کی نگرانی کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق غزہ میں روزمرہ امور چلانے کے لیے نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی علی شاعت کریں گے۔
علی شاعت فلسطینی اتھارٹی کے سابق نائب وزیرِ ٹرانسپورٹ ہیں اور خان یونس سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم اس بورڈ پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر کی ماضی کی امریکی جنگی پالیسیوں کی حمایت اور جیرڈ کشنر کے اسرائیل نواز مؤقف کے باعث یہ اقدام متنازع ہے۔
ناقدین کے مطابق غزہ اور فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ صرف فلسطینیوں کو کرنا چاہیے، نہ کہ بین الاقوامی سرپرستی کے تحت قائم بورڈز کو۔
ادھر فلسطینی دھڑوں کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی ثالثی میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی بات کی جا رہی ہے، جبکہ غزہ میں اسرائیلی حملے اور انسانی امداد پر پابندیاں بدستور جاری ہیں۔