Posted in

پاکستان کے ابھرتے ٹیلنٹ سمیر منہاس کی کامیابی کا راز کیا؟

پاکستان کے 19 سالہ اوپنر سمیر منہاس نے کم عمری میں ریکارڈ ساز اننگز کھیل کر خود کو نمایاں کر لیا ہے۔

جیسے جیسے سمیر منہاس کا ٹیلنٹ دنیا کے سامنے آرہا ہے، عوام و خواص میں ان کی بیٹنگ تکنیکس کے بارے میں جاننے کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔

ایسے سمیر منہاس نے اپنی طاقتور بیٹنگ اسکلز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جس نے بہت لوگوں کے اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا ہے کہ ان کی بیٹنگ کی بنیاد طاقت نہیں ہے، بلکہ حساب، صبر اور شاندار ٹائمنگ سے کام لے کر وہ اپنی اننگز کو سحر انگیز بناتے ہیں۔

سمیر منہاس نے بتایا کہ کرکٹ کی طرف ان کا سفر ملتان کی گلیوں سے شروع ہوا، جہاں بچپن میں اپنے بڑے بھائی عرفات کے خلاف میچ کھیلتے ہوئے انہوں نے دباؤ میں چھکا لگا کر خود پر اعتماد پیدا کیا۔ وقت کے ساتھ یہی اعتماد ان کی پہچان بن گیا۔

انڈر 19 ایشیا کپ کے فائنل میں بھارت کے خلاف 113 گیندوں پر 172 رنز کی شاندار اننگ نے سمیر منہاس کو قومی سطح پر شہرت دلائی۔

اس اننگز میں ان کے شاٹس طاقت سے نہیں بلکہ نفیس ٹائمنگ سے نکلے، جس نے شائقین اور سابق کھلاڑیوں کو متاثر کیا۔

سمیر کا کہنا ہے کہ وہ ہر گیند پر اٹیک کرنے کے بجائے میچ کی صورتحال کو سمجھ کر کھیلتے ہیں۔

ان کے مطابق چند ڈاٹ بالز یا میڈن اوورز انہیں پریشان نہیں کرتے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سیٹ ہونے کے بعد اسٹرائیک ریٹ خود بہتر ہو جاتا ہے۔

کوچز کے مطابق سمیر منہاس کی بیٹنگ میں ٹھہراؤ اور سمجھ بوجھ نمایاں ہے، جو انہیں دیگر نوجوان کھلاڑیوں سے منفرد بناتی ہے۔

وہ خود کو پاور ہٹر نہیں بلکہ ایک ایسا بلے باز سمجھتے ہیں جو گیند کو دیر سے کھیل کر درست جگہ پر بھیجتا ہے۔

انڈر 19 ون ڈے کرکٹ میں شاندار اعداد و شمار کے ساتھ سمیر منہاس اب ورلڈ کپ میں پاکستان کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا خبروں کے دباؤ کے بجائے صرف میدان میں کارکردگی پر توجہ دیتے ہیں۔

نوجوان اوپنر مستقبل میں تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کے خواہشمند ہیں اور خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ کو اپنا خواب قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول اصل امتحان وہیں ہوتا ہے۔

Leave a Reply