Posted in

امریکا نے اپنے سفارتی عملے کو فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دے دیا

امریکا نے اپنے سفارتی عملے کو فوری طور پر اسرائیل چھوڑنے کا حکم دے دیا

عملے کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بن گوریون ایئرپورٹ سے جلد از جلد کسی بھی دستیاب پرواز پر جگہ حاصل کریں

امریکا نے اسرائیل میں تعینات اپنے سفارتی عملے کو ہدایت دی ہے کہ اگر وہ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں تو پہلی دستیاب پرواز کے ذریعے فوری روانگی کا انتظام کریں۔

امریکی سفیر مائیک ہیکبی کی جانب سے بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا کہ غیر ضروری سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو رضاکارانہ طور پر اسرائیل چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے، اس لیے فلائٹس میں نشستوں کی کمی کا امکان ہے۔

پیغام میں عملے کو مشورہ دیا گیا کہ وہ بن گوریون ایئرپورٹ سے جلد از جلد کسی بھی دستیاب پرواز پر جگہ حاصل کریں، تاہم یہ بھی واضح کیا گیا کہ گھبراہٹ کی ضرورت نہیں بلکہ احتیاطی اقدام کے طور پر جلد منصوبہ بندی بہتر ہوگی۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ نے سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے غیر ہنگامی عملے کو ملک چھوڑنے کی اجازت دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام خطے میں بڑھتی سکیورٹی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کا عندیہ دیتا ہے، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کے تناظر میں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے اپنے سفارتی عملے کے تحفظ اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر اضافی حفاظتی و عسکری اقدامات بھی تیز کر دیے ہیں۔

Leave a Reply