حالیہ تحقیق کے مطابق سردرد اور حیض کے درد میں استعمال ہونے والی آئیبروپروفن کینسر سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
سائنسدان اب سمجھ رہے ہیں کہ سوزش اور کینسر کے درمیان تعلق اہم کردار ادا کرتا ہے اور آئیبروپروفن اس میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
یہ دوا غیر اسٹیرایڈل سوزش کم کرنے والی ادویات کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور 1983 سے معلوم ہوا کہ بعض این ایس اے آئی ڈی ادویات مثلاً سلنڈیک کولن کینسر کے خطرے کو کم کرسکتی ہیں۔
آئیبروپروفن کوکس نامی خامروں کو بلاک کرکے سوزش کو کم کرتی ہے جس سے کینسر کے خلیات کی نشوونما میں رکاوٹ آسکتی ہے۔
2025 کی ایک تحقیق کے مطابق ماہانہ کم از کم 30 گولیاں لینے والی خواتین میں رحم کے کینسر کے خطرے میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
اس کے اثرات دل کی بیماری میں مبتلا خواتین میں زیادہ واضح تھے۔ دیگر این ایس اے آئی ڈی ادویات جیسے اسپیرن، ہر کینسر پر یکساں اثر نہیں رکھتیں۔
آئیبروپروفن نہ صرف رحم کے کینسر بلکہ آنت، چھاتی، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کے کینسر کے خطرے کو بھی کم کرسکتی ہے۔
یہ کچھ جینیاتی راستوں کو متاثر کرتی ہے جو کینسر کے خلیات کو کمزور بناتے ہیں اور بعض صورتوں میں کیموتھراپی کے اثر کو بڑھاسکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ خود سے آئیبروپروفن لینا خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ طویل استعمال معدے کے زخم، خون بہنے اور گردے کے مسائل پیدا کرسکتا ہے اور دل کی بیماری کا بھی خطرہ بڑھاسکتا ہے۔
ابھی کے لیے سب سے محفوظ طریقہ کینسر سے بچاؤ کا طرزِ زندگی ہے جس میں صحت مند غذا، مناسب وزن برقرار رکھنا، باقاعدہ ورزش اور ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر دوا استعمال نہ کرنا شامل ہیں۔
واضح رہے کہ آئیبروپروفن میں موجود یہ ممکنہ خصوصیات مستقبل میں کینسر کے خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بن سکتی ہیں مگر مزید تحقیق ضروری ہے۔