نیٹ فلیکس نے وارنر برادرز اور ڈسکوری خریدنے کے لیے انوکھی پیشکش کر دی
دوسری جانب پیراماؤنٹ نے فی شیئر 30 ڈالر کی پیشکش کے ساتھ دباؤ بڑھا رکھا ہے
تفریحی صنعت کے مستقبل پر جاری بڑی کشمکش میں نیٹ فلکس نے وارنر برادرز ڈسکوری کے لیے اپنی پیشکش میں نمایاں تبدیلی کرتے ہوئے اب شیئرز کے بجائے مکمل نقد رقم ادا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ ترمیم شدہ منصوبہ کل صبح سامنے آیا، جو ابتدائی معاہدے کے تقریباً چھ ہفتے بعد کیا گیا ہے۔
نیٹ فلکس اب وارنر برادرز کے فلم اسٹوڈیو اور اسٹریمنگ اثاثوں کے لیے فی شیئر 27.75 ڈالر نقد ادا کرنے کو تیار ہے۔ ان اثاثوں کو اس سال کے آخر میں ایک نئی عوامی کمپنی وارنر برادرز کے نام سے الگ کر دیا جائے گا، جبکہ سی این این سمیت دیگر چینلز ایک نئی کمپنی ڈسکوری گلوبل کا حصہ بنیں گے۔
ابتدائی طور پر نیٹ فلکس کی پیشکش نقد اور اسٹاک کے امتزاج پر مشتمل تھی، تاہم اس ماڈل کو بنیاد بنا کر پیراماؤنٹ نے اپنی مکمل نقد پیشکش کو بہتر قرار دیا تھا۔ اب نیٹ فلکس کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ زیادہ واضح، محفوظ اور سرمایہ کاروں کے لیے بہتر ہے۔
نیٹ فلکس کے مطابق اس لین دین کی فنانسنگ موجودہ نقد، دستیاب کریڈٹ سہولیات اور طے شدہ فنانسنگ کے ذریعے کی جائے گی۔ کمپنیوں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی سے معاہدے کی ساخت سادہ، قدر زیادہ یقینی اور شیئر ہولڈرز کی منظوری کا عمل تیز ہو جائے گا۔
ڈبلیو بی ڈی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ زاسلاو نے کہا کہ امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیش کی منظوری کے بعد بہار کے موسم میں شیئر ہولڈرز کا خصوصی اجلاس بلایا جائے گا تاکہ معاہدے پر ووٹنگ ہو سکے۔
دوسری جانب پیراماؤنٹ نے فی شیئر 30 ڈالر کی پیشکش کے ساتھ دباؤ بڑھا رکھا ہے اور پراکسی فائٹ کی دھمکی بھی دی ہے۔
تاہم وارنر برادرز ڈسکوری کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدہ اور ڈسکوری گلوبل کی تشکیل سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
وارنر برادرز ڈسکوری کے بورڈ چیئرمین سیموئل اے ڈی پیازا جونیئر نے کہا کہ مکمل نقد پیشکش سے شیئر ہولڈرز کو زیادہ یقین دہانی اور مستقبل کی حکمت عملی میں شمولیت کا موقع ملے گا، جبکہ پیراماؤنٹ نے ان چینلز کی قدر کو کم تر قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ پیراماؤنٹ نے اس معاملے پر ڈیلاویئر میں مقدمہ بھی دائر کیا تھا، تاہم عدالت نے کیس کو تیز کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
ادھر نیٹ فلکس منگل کو مارکیٹ بند ہونے کے بعد اپنی سہ ماہی مالی رپورٹ بھی جاری کرے گا، جس پر سرمایہ کاروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔