Posted in

اوپن اے آئی کی سالانہ آمدنی 3 گنا بڑھ گئی، مصنوعی ذہانت کی طلب میں زبردست اضافہ

اوپن اے آئی کی سالانہ آمدنی 3 گنا بڑھ گئی، مصنوعی ذہانت کی طلب میں زبردست اضافہ

اوپن اے آئی 2026 کے دوسرے نصف میں اپنا پہلا آلہ متعارف کرانے کی تیاری میں ہے۔

مصنوعی ذہانت کی طلب میں زبردست اضافے کے بعد اوپن اے آئی کی سالانہ آمدنی 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔

اوپن اے آئی کی 2025 میں سالانہ آمدنی 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے جو پچھلے سال کی 6 ارب ڈالر کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔

کمپنی کی چیف فنانشل آفیسر سارہ فریئر کے مطابق یہ تیز ترقی کمپیوٹنگ صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ہم آہنگ رہی۔

فریئر نے بتایا کہ اوپن اے آئی کی کمپیوٹنگ صلاحیت 2025 میں 0.6 گیگا واٹ سے بڑھ کر 1.9 گیگا واٹ ہوگئی ہے جب کہ ہفتہ وار اور یومیہ فعال صارفین کی تعداد بھی مسلسل ریکارڈ سطح پر پہنچ رہی ہے۔

مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ کچھ امریکی صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات دکھانے کا آغاز کیا جائے گا جس کا مقصد آمدنی بڑھاکر مصنوعی ذہانت کی مہنگی ترقیاتی لاگت کو پورا کرنا ہے۔

مصنوعات کی توسیع اور مستقبل کی ترجیحات

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے پالیسی چیف کرس لہان نے بتایا کہ اوپن اے آئی 2026 کے دوسرے نصف میں اپنا پہلا آلہ متعارف کرانے کی تیاری میں ہے۔

فریئر کے مطابق موجودہ پلیٹ فارم میں متن، تصاویر، آواز، کوڈ اور ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس شامل ہیں جب کہ اگلے مرحلے میں مسلسل کام کرنے والے ایجنٹس اور ورک فلو آٹومیشن پر توجہ ہوگی جو وقت کے ساتھ سیاق و سباق کو برقرار رکھیں اور مختلف ٹولز پر کارروائی کرسکیں۔

2026 کے لیے کمپنی کی ترجیح عملی استعمال ہوگی، خاص طور پر صحت، سائنس اور کاروباری شعبوں میں۔

فریئر نے مزید بتایا کہ اوپن اے آئی اپنے اثاثوں کے بجائے شراکت داری پر انحصار کررہی ہے اور مختلف فراہم کنندگان اور ہارڈویئر کی اقسام کے ساتھ لچکدار معاہدوں کے ذریعے مالی توازن برقرار رکھ رہی ہے۔

Leave a Reply