صدی کی شدید ترین برفباری کے نیچے روس کا شہر دفن ہو گیا، ہنگامی حالت نافذ
کئی علاقوں میں لوگ بالائی منزلوں سے برف کے سمندروں میں اترتے دکھائی دے رہے ہیں
روس کے مشرقی حصے میں واقع کامچاٹکا جزیرہ نما اس وقت تاریخ کی بدترین برفانی آزمائش سے گزر رہا ہے، جہاں طوفانی برفباری نے شہروں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
کئی روز سے جاری مسلسل برفباری کے باعث سڑکیں غائب، گاڑیاں دفن اور عمارتیں کئی میٹر اونچی برف کے نیچے دب چکی ہیں، جبکہ کم از کم دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
شدید سرد ہواؤں کے ساتھ آنے والے برفانی طوفان نے خطے کی روزمرہ زندگی کا پہیہ جام کر دیا ہے۔ دارالحکومت پیٹروپاولوسک-کامچاٹسکی میں حالات سب سے زیادہ سنگین ہیں، جہاں بعض رہائشی عمارتوں کی کھڑکیوں تک برف جا پہنچی ہے۔
شہری گھروں سے نکلنے کے لیے برف کاٹ کر راستے بنا رہے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں لوگ بالائی منزلوں سے برف کے سمندروں میں اترتے دکھائی دے رہے ہیں، جن کی ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ برفانی طوفان کئی دہائیوں میں آنے والے شدید ترین موسمی نظاموں میں سے ایک ہے۔ بعض مقامات پر برف کی تہہ اس حد تک موٹی ہو چکی ہے کہ اسے ایک صدی کے ریکارڈ کے برابر قرار دیا جا رہا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ اسکول بند، کاروبار معطل اور پبلک ٹرانسپورٹ محدود کر دی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں سڑکیں کھولنے، چھتوں سے برف ہٹانے اور پھنسے شہریوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
افسوسناک طور پر، چند واقعات میں چھتوں سے گرنے والے برفانی تودوں نے قیمتی جانیں بھی لے لیں۔ امدادی اداروں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی وقت مزید خطرناک حادثات پیش آ سکتے ہیں۔