کابل خوفناک دھماکے سے لرز اٹھا، 7 افراد ہلاک، 12 سے زائد زخمی
درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں میں دو چینی باشندے بھی شامل ہیں
افغانستان کے دارالحکومت کابل ایک بار پھر خوف کی لپیٹ میں آگیا، جہاں شہرِ نو کے مصروف اور نسبتاً محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں زوردار دھماکے نے ہر طرف افراتفری مچا دی۔
دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ درجن سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں میں دو چینی باشندے بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکا پیر کی سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے اس سڑک پر ہوا جو پھول فروشوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، جس کے بعد علاقے میں چیخ و پکار اور بھگدڑ مچ گئی۔
قریبی اسپتال چلانے والی اطالوی فلاحی تنظیم کے مطابق سات افراد اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے جبکہ 13 زخمیوں کو فوری طور پر آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں چار خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے وقت علاقہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ زور دار دھماکے کے بعد ہر شخص اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتا دکھائی دیا، سڑک پر زخمی تڑپ رہے تھے اور شیشے بکھرے ہوئے تھے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران کے مطابق دھماکا ایک ہوٹل کے اندر ہوا، تاہم دھماکے کی نوعیت اور محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ متعدد ریستوران اور عمارتوں کو بند کر دیا گیا۔
چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکے میں دو چینی شہری شدید زخمی ہوئے جبکہ ایک افغان سیکیورٹی گارڈ جان سے گیا۔ دھماکے سے ہوٹل سے منسلک ریسٹورنٹ کو شدید نقصان پہنچا اور کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔