اے آئی اور سائیکوسس؛ کیا چیٹ بوٹس ہمارے ذہن کو بھی متاثر کرسکتے ہیں؟
چیٹ بوٹس جذباتی اور موزوں جوابات دیتے ہیں جس سے متاثرہ افراد کے وہمی خیالات کو مضبوطی ملتی ہے۔
مصنوعی ذہانت اب ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے، چیٹ بوٹس سے لے کر الگوردم تک جو ہمیں مشورے دیتے ہیں یا آن لائن مواد دکھاتے ہیں۔
لیکن جیسے جیسے جدید چیٹ بوٹس زیادہ جذباتی اور بات چیت پر مبنی ہو رہے ہیں ماہرین نفسیات نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ نظام نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد میں سائیکوسس کے آثار بڑھاسکتے ہیں یا اسے متحرک کرسکتے ہیں؟
’’اے آئی سائیکوسس‘‘ ایک رسمی تشخیص نہیں بلکہ اس اصطلاح کا استعمال ایسے مریضوں کے لیے کیا جاتا ہے جن کے بھٹکی ہوئی سوچیں یا وہمی خیالات اے آئی کے ساتھ بات چیت سے شدت اختیار کرتے ہیں۔
ایسے افراد جن میں پہلے سے نفسیاتی مسائل ہیں، چیٹ بوٹس کے جواب انہیں زیادہ حقیقی اور درست محسوس ہوتے ہیں جس سے ان کے وہم مزید پختہ ہوسکتے ہیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چیٹ بوٹس جذباتی اور موزوں جوابات دیتے ہیں جس سے متاثرہ افراد کے وہمی خیالات کو مضبوطی ملتی ہے۔ سوشل تنہائی اور کم انسانی رابطے والے افراد پر یہ اثر اور بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔
ابھی تک کوئی ثبوت نہیں کہ اے آئی براہِ راست سائیکوسس پیدا کرتا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کمزور افراد میں مسئلہ پیدا کرنے یا اسے بڑھانے والا عنصر ہوسکتا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اس صورت میں اے آئی کو ’’منفی اثرات سے بچاؤ‘‘ کے ساتھ ڈیزائن کرنا ضروری ہے تاکہ حساس افراد غیر ارادی نقصان سے محفوظ رہیں۔
اس کے لیے طبی علم اور اے آئی ڈویلپمنٹ کو مربوط کرنا ہوگا، کلینیکل گائیڈ لائنز بنانا ہوں گی اور صارفین کی حفاظت کے لیے مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔
آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی انسان نما اور بات چیت پر مبنی ہوتا جا رہا ہے، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے کمزور افراد کو اس کے ممکنہ نقصانات سے کیسے بچائیں۔