کراچی، اربوں کا کاروبار، جانوں کا تحفظ صفر، 77 فیصد عمارتیں آگ کے سامنے بے بس
2023 کے آڈٹ میں 45 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 29 عمارتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا
ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز کراچی میں اربوں روپے کے روزانہ کاروبار کے باوجود فائر سیفٹی کو مکمل طور پر نظرانداز کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
شہر بھر میں سیکڑوں بڑے بازاروں، شاپنگ سینٹرز اور کمرشل پلازوں میں آگ سے بچاؤ کے بنیادی انتظامات تک موجود نہیں۔
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق کراچی کی بیشتر بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز میں اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی نظام نصب نہیں، جبکہ کئی بڑے بازاروں میں تو آگ بجھانے کے آلات کا تصور تک نہیں۔
حیران کن طور پر اربوں روپے کے کاروبار کے باوجود فائر سیفٹی کے لیے کوئی مؤثر بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق اکتوبر 2025 اور اس سے قبل دسمبر 2023 میں فائر سیفٹی آڈٹس کیے گئے، مگر مسلسل نشاندہی کے باوجود غفلت جوں کی توں برقرار رہی۔
2023 کے آڈٹ میں 45 عمارتوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے 29 عمارتوں کو غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ 77 فیصد عمارتوں میں فائر فائٹنگ کا کوئی سامان موجود نہیں، جبکہ 34 ہزار سے زائد افراد ان خطرناک عمارتوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جہاں کسی بھی وقت بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے۔
تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ کسی ایک بھی عمارت کے پاس فائر سیفٹی سرٹیفیکیشن موجود نہیں، جو متعلقہ اداروں کی کارکردگی اور نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی میں آتشزدگی کا کوئی بھی واقعہ بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامی غفلت پر عائد ہوگی۔