اسلام آباد: وفاقی وزیرِ پاور اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا کی رپورٹ جون 2025 تک کی ہے اور حکومت نیپرا کو خط لکھے گی تاکہ رپورٹ بروقت جاری ہو اور تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیپرا نے رپورٹ آزادانہ طور پر تیار کی جسے سراہتے ہیں، تاہم رپورٹ کے بعض نکات پر وضاحت ضروری تھی۔
وزیر پاور کے مطابق ملک میں اس وقت 8,700 میگاواٹ سرپلس بجلی موجود ہے۔ یہ تاثر درست نہیں کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ نہیں لیا گیا؛ حکومت نے آئی پی پیز سے مذاکرات کرکے معاہدوں پر نظرِ ثانی کی۔
انہوں نے بتایا کہ کم سے کم لاگت کے معیار سے ہٹ کر سسٹم پلاننگ کی گئی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئی جی سیپ اور ٹرانسمیشن پلان کو یکجا کرکے 2025 تا 2035 کا منصوبہ جمع کرایا گیا۔
اویس لغاری نے کہا کہ پہلی مرتبہ میرٹ پر 7,967 میگاواٹ غیر ضروری بجلی منصوبے ختم کرکے صارفین پر اضافی بوجھ کم کیا گیا۔ نیپرا کے مطابق نقصانات ہدف سے زیادہ ہوں تو اس کا اثر صارفین پر پڑتا ہے، تاہم حکومتِ پاکستان یہ نقصانات برداشت کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نقصانات میں 586 ارب روپے کی کمی کی گئی جبکہ ریکوریز نہ ہونے سے گردشی قرض نہیں بڑھتا، اس کے باوجود 183 ارب روپے کی اضافی ریکوریز حاصل کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ میٹر ریڈنگ کا اختیار عوام کو دیا گیا، 40 ارب روپے سے زائد اووربلنگ کی رقم صارفین کو واپس کی گئی اور اووربلنگ کے نقصانات پر 17 فیصد قابو پایا گیا۔
وزیر پاور نے نیپرا کے اس مؤقف کو غلط قرار دیا کہ گردشی قرض میں کمی اصلاحات سے نہیں آئی، اور بتایا کہ نقصانات میں 183 ارب، لیٹ پیمنٹ سرچارج میں 260 ارب اور اصلاحات کے ذریعے 300 ارب روپے کا بوجھ کم کیا گیا۔
اویس لغاری کے مطابق لیٹ پیمنٹ سرچارج 3 روپے 23 پیسے کئی برسوں سے عائد ہے، جبکہ گزشتہ پانچ سال میں کے-الیکٹرک صارفین کو ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کی مد میں 500 ارب روپے دیے گئے۔ گردشی قرض 2,400 ارب سے کم ہوکر 1,600 ارب روپے تک آچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں مگر کمی لائی جا رہی ہے؛ گھریلو صارفین کے لیے 19 فیصد، انڈسٹری کے لیے 26 فیصد اور قومی سطح پر اوسط نرخوں میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے۔ ڈسکوز کے بورڈز کو مکمل بااختیار اور خودمختار بنا دیا گیا ہے۔
وزیر پاور نے بتایا کہ ٹرانسمیشن لائن کے ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی، طلب میں 2,000 میگاواٹ اضافہ ہوا، اور موسم کی شدت کے باعث لوڈشیڈنگ پر قوم سے معذرت کرتے ہیں۔