دو ملین سال پرانا انسانی فوسل دریافت، ابتدائی انسان کی تاریخ میں بڑی پیش رفت
یہ فوسل ممکنہ طور پر انسان کی اس قدیم نسل کی اب تک کی سب سے پرانی مثال بھی ہوسکتا ہے۔
بین الاقوامی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک ٹیم نے ابتدائی انسان کی نسل سے تعلق رکھنے والا اب تک کا سب سے مکمل ڈھانچہ دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ فوسل تقریباً 2 ملین (بیس لاکھ) سال پرانا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ ممکنہ طور پر انسان کی اس قدیم نسل کی اب تک کی سب سے پرانی مثال بھی ہوسکتا ہے۔
یہ جزوی انسانی ڈھانچہ دانتوں کے تقریباً مکمل مجموعے کے علاوہ کندھوں، بازوؤں، پسلیوں، کولہے، ران کی ہڈیوں اور کھوپڑی کے اہم حصوں پر مشتمل ہے۔
یہ قیمتی باقیات گزشتہ ایک دہائی کے دوران افریقہ کے ملک کینیا کے شمالی علاقے میں مختلف زمینی تہوں سے دریافت ہوئیں جن کی عمر بیس لاکھ دو ہزار سے بیس لاکھ چھ ہزار سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ماہرین نے ان تمام حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر انہیں دوبارہ ترتیب دیا۔
تحقیق کے سربراہ کے مطابق اس قدیم انسانی نسل کے صرف تین اور ڈھانچے اب تک ملے ہیں اور وہ بھی نہایت نامکمل حالت میں۔ اس کے مقابلے میں نئی دریافت غیرمعمولی حد تک مکمل ہے جس سے ابتدائی انسان کی جسمانی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یہ قدیم انسانی نسل اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے کہ اسے پتھر کے اوزار بنانے والے اولین انسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نسل اس قدیم بندر نما انسان اور جدید انسان کے درمیان ایک اہم کڑی تھی جو ارتقائی سفر میں فیصلہ کن مرحلہ سمجھی جاتی ہے۔
تحقیقی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نسل کا دماغ پچھلی نسل کے مقابلے میں زیادہ بڑا تھا جب کہ چہرہ اور دانت نسبتاً چھوٹے تھے۔
ہاتھوں کی انگلیوں کی ہڈیوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس انسان میں باریک گرفت کی صلاحیت پیدا ہوچکی تھی جو اوزار بنانے یا گوشت تیار کرنے میں استعمال ہوتی ہوگی۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ قدیم انسان ایک اور انسانی نسل کے ساتھ تقریباً پانچ لاکھ سال تک ایک ہی خطے میں موجود رہا۔ ماہرین کے درمیان اس بات پر ابھی اختلاف ہے کہ آیا یہ انسان زیادہ تر درختوں پر رہتا تھا یا زمین پر چلنے پھرنے کا عادی ہوچکا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نچلے دھڑ کی ہڈیوں کی کمی کے باعث حتمی نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں تاہم دانتوں اور کھوپڑی کی بنیاد پر یہ طے کیا گیا ہے کہ یہ فرد غالباً ایک نوجوان بالغ انسان تھا۔
ماہرین کے مطابق انسانی ارتقا سیدھی لکیر میں نہیں ہوا بلکہ مختلف نسلیں ایک ہی وقت میں موجود رہیں۔ یہ نئی دریافت انسان کے پیچیدہ خاندانی درخت کی ابتدائی شاخوں کو سمجھنے میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے۔