اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور راناثناءاللہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سہیل آفریدی کو نااہل کرنا نہیں چاہتی اور نہ ہی خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا ارادہ ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں رکاوٹ بننے کی صورت میں نااہلی ہوسکتی ہے۔
بول نیوز کے پروگرام ’’ڈیبیٹ ود نادیہ مرزا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے راناثناءاللہ نے کہا کہ اپوزیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنا لیڈر خود منتخب کرے اور محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر منتخب کیا جاچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی اکثریت نے محمود خان اچکزئی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور امید ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں سے تمام مسائل کا حل نکلے گا، ماضی میں مشکل حالات کے دوران مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی ساتھ کھڑے رہے اور دونوں رہنماؤں نے مل کر جدوجہد کی، جس کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
راناثناءاللہ کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری عمل ہے اور یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی سے احترام کا تعلق ہے جب کہ نواز شریف کے بھی محمود خان اچکزئی سے اچھے تعلقات ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی محمود خان اچکزئی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے حوالے سے مشیر وزیراعظم نے کہا کہ یہ اختیار اسپیکر کے پاس ہوتا ہے اور اسپیکر نے اس معاملے پر یقینی طور پر تمام لیڈرشپ کو اعتماد میں لیا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔
راناثناءاللہ کہتے ہیں کہ حکومت کو پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر پورا اعتماد ہے اور کینال کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے مؤقف کو تسلیم کیا گیا۔
ان کے مطابق بلاول بھٹو نے وزیراعظم سے آخری ملاقات میں تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی جب کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو ہمیشہ سپورٹ کیا ہے۔ تاہم صوبوں کے فنڈز کی تقسیم پر پیپلز پارٹی کے نقطہ نظر سے اختلاف موجود ہ، لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ فیصلے یکطرفہ نہیں ہونے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ایوانِ صدر میں کسی بھی سیاسی جماعت کی تقریب ہونا مناسب نہیں۔ سندھ حکومت پی ٹی آئی کی ہڑتال کے مؤقف کی تائید نہیں کرسکتی تھی جب کہ پی ٹی آئی ہڑتال کی کال دینے کے لیے کراچی گئی تھی۔
مشیر وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی سرگرمیوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور حکومت پی ٹی آئی کی کسی بھی کال کو شک کی نظر سے دیکھے گی۔
راناثناءاللہ نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ پی ٹی آئی کی کال پر انتظامیہ خاموش بیٹھی رہے، وزیراعظم بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔
مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے یومِ آزادی کے موقع پر میثاقِ استحکامِ پاکستان سے متعلق بات کی تھی۔ ہمارا رویہ جمہوری ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو اور پاکستان ترقی کرے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے متعلق سوال پر راناثناءاللہ نے کہا کہ ان کے پاس ثبوت ہوں گے کیونکہ وہ بغیر ثبوت کے بات نہیں کرسکتے۔