پاک–امریکہ تعلقات میں نیا موڑ، 2025 اعتماد، تعاون اور شراکت داری کا سال قرار
افغانستان کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا دوبارہ بحال ہوئی
اسلام آباد: سال 2025 پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا، جہاں برسوں سے جاری سرد مہری ختم ہو کر اعتماد اور عملی تعاون میں بدلتی نظر آئی۔
عالمی سطح کے معروف تھنک ٹینکس نے بھی اس پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کی ہے۔
مڈل ایسٹ پولیٹیکل اینڈ اکنامک انسٹیٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان روابط ایک نئے، مثبت مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ممتاز ماہرِ عالمی امور پروفیسر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ بدلتے ہوئے ملٹی پولر عالمی نظام میں پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نہایت دانشمندی اور توازن کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان کے مطابق اسلام آباد نے بیک وقت چین، روس اور یورپی ممالک کے ساتھ بھی متوازن سفارتی روابط برقرار رکھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا دوبارہ بحال ہوئی۔
خاص طور پر مئی 2025 میں بھارت–پاکستان جنگ بندی میں امریکی ثالثی کے کردار کو تسلیم کیے جانے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض علاقائی اقدامات کی حمایت نے تعلقات کو مزید تقویت دی۔
انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں تعاون پاک–امریکہ تعلقات کا مرکزی ستون بن کر سامنے آیا۔ بالخصوص داعش خراسان کے سربراہ محمد شریف اللہ کی گرفتاری اور امریکا حوالگی کو دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
معاشی سطح پر بھی تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق تجارتی ٹیرف میں نرمی، دو طرفہ تجارت کا حجم بڑھ کر 13.28 ارب ڈالر تک پہنچنا، اہم معدنیات کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری اور ریکوڈک منصوبے کے لیے مالی معاونت پاک–امریکہ معاشی شراکت داری کی مضبوط بنیاد بنے۔
اسٹریٹجک محاذ پر واشنگٹن نے جنوبی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی کو ازسرِنو ترتیب دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو ایک ہی علاقائی فریم میں دیکھنے کا آغاز کیا، جبکہ دفاعی تعاون کو بھی فروغ دیا گیا۔ ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن ڈیل کو ماہرین پاکستان کی سفارتی اور معاشی پوزیشن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔