آسٹریلیا بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی پر نظر ثانی کرے، میٹا
میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے نئے آسٹریلوی قانون کے تحت پانچ لاکھ 44 ہزار سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں
ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے آسٹریلوی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عائد کردہ دنیا کی پہلی پابندی پر دوبارہ غور کرے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ اس نے نئے آسٹریلوی قانون کے تحت پانچ لاکھ 44 ہزار سے زائد اکاؤنٹس بلاک کر دیے ہیں۔ 10 دسمبر 2022 کو نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت، آسٹریلیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اور یوٹیوب کو پابند کیا کہ وہ کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس کو بلاک کریں۔
اگر کمپنیاں اس قانون پر عمل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو انہیں 4.95 ملین آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 3.3 ملین امریکی ڈالر) تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
میٹا نے بتایا کہ 11 دسمبر تک ایک ہفتے میں اس نے انسٹاگرام سے تین لاکھ 31 ہزار، فیس بک سے ایک لاکھ 73 ہزار، اور تھریڈز سے 40 ہزار اکاؤنٹس ہٹا دیے۔
کمپنی نے کہا کہ وہ اس قانون کی تعمیل کے لیے پرعزم ہے، تاہم وہ آسٹریلوی حکومت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صنعت کے دیگر ارکان کے ساتھ مل کر ایک مثبت اور تعمیری حل تلاش کرے۔
میٹا نے اپنے سابقہ مطالبے کو دہرایا کہ ایپ اسٹورز کو صارفین کی عمر کی تصدیق کرنے اور والدین کی اجازت کے بغیر کم عمر افراد کو ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے روکنا چاہیے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اس ’’کبھی نہ ختم ہونے والی دوڑ‘‘ سے بچنے میں مدد دے گا، جس میں ایک ایپ پر پابندی لگنے کے بعد نوجوان فوراً نئی ایپس پر منتقل ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے اور میٹا کا مشترکہ قدم، پاکستان میں انسٹاگرام پر کم عمر صارفین کیلیے فیچر متعارف
حکومت نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں نوجوان آسٹریلوی شہریوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کی ذمہ دار ہیں، اور انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ 16 سال سے کم عمر افراد ان کے پلیٹ فارمز کا حصہ نہ بنیں۔
میٹا کا ماننا ہے کہ اس پابندی سے نوجوانوں کو آن لائن کمیونٹیز سے الگ کرنے کا خطرہ ہو گا، اور کچھ افراد کم ریگولیٹڈ ایپس یا انٹرنیٹ کے تاریک حصوں کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، کمپنی نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ قانون نوجوانوں کے تحفظ کے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہا۔
میٹا نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آسٹریلوی قانون کے مطابق عمر کی تصدیق کے لیے کوئی صنعت معیار موجود نہیں، جس سے قانون کی تعمیل ایک پیچیدہ عمل بن جائے گا۔ اس کے جواب میں، میٹا نے اوپن ایج انیشی ایٹو کی بنیاد رکھی، جو ایک غیر منافع بخش گروپ ہے، اور اس نے ایج کیز کے نام سے عمر کی تصدیق کے ٹولز متعارف کرائے ہیں، جنہیں مختلف پلیٹ فارمز پر استعمال کیا جائے گا۔
میٹا کی جانب سے اس پابندی پر نظر ثانی کی درخواست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کمپنی سوشل میڈیا کے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر اور متوازن حل کی خواہاں ہے۔