وال اسٹریٹ جرنل کی مودی حکومت پر کڑی تنقید، کمزور معاشی اصلاحات ناکامی قرار
بھارتی حکومت آزاد منڈی سے متعلق واضح اور مضبوط وژن پیش کرنے میں ناکام رہی، وال اسٹریٹ جنرل
معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھارت میں کمزور معاشی اصلاحات کو مودی حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد منڈی سے متعلق واضح اور مضبوط وژن پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں امریکا کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا جو کسی بھی بڑی معیشت کے لیے غیر معمولی حد تک بلند ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان ٹیرف اقدامات نے یہ واضح کردیا کہ بھارتی معاشی اصلاحات جرات مندانہ نہیں تھیں اور بھارت کی سخت ریگولیٹڈ معیشت دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگئی۔
وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اپنے ہی پیدا کردہ معاشی مسائل کو درست کرنے میں تاخیر کرتی رہی جب کہ ان کے دور میں متعارف کرائی گئی اصلاحات غیر مستقل اور کمزور ثابت ہوئیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بینکاری بحران کے بعد اصلاحات بہت دیر سے متعارف کروائی گئیں جب کہ گڈز اینڈ سروسز ٹیکس کا ناقص نفاذ مودی حکومت کی ایک بڑی ناکامی ہے۔
اخبار کے مطابق بھارت میں یہ نظام اب بھی عالمی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اسی طرح لیبر اصلاحات میں بڑی اور بنیادی تبدیلیوں سے گریز کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نان ٹیرف رکاوٹوں نے امریکا کے غصے کو بڑھایا جب کہ انشورنس اور نیوکلیئر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت بھی بہت تاخیر سے دی گئی۔
پاور سیکٹر میں اصلاحات کے دعوے بار بار ناکام رہے اور سرکاری بجلی کے ادارے بدستور شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔
امریکی اخبار کے مطابق حکومت جرات مندانہ فیصلوں کے بجائے جزوی اور نمائشی اقدامات پر انحصار کرتی رہی جب کہ بحران سے قبل ہونے والی تنقید کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ بیوروکریسی میں صرف سطحی تبدیلیاں کی گئیں اور زرعی اصلاحات کو سیاسی دباؤ کے باعث واپس لے لیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بلند ٹیرف، تحفظ پسند پالیسیاں، زمین، لیبر اور سبسڈی اصلاحات میں مسلسل تاخیر اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری نہ ہونا بھارتی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔
وال اسٹریٹ جرنل کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کو نمائشی اقدامات کے بجائے مکمل معاشی اوورہال کی ضرورت ہے۔