Posted in

لیونارڈو ڈاونچی کے جینیاتی راز کھلنے لگے، صدیوں پرانا معمہ حل ہونے کے قریب

لیونارڈو ڈاونچی کے جینیاتی راز کھلنے لگے، صدیوں پرانا معمہ حل ہونے کے قریب

لیونارڈو ڈاونچی سے وابستہ قدیم فن پاروں اور دستاویزات میں محفوظ حیاتیاتی نشانیاں صدیوں بعد بھی قابلِ مطالعہ۔

سائنس دانوں کے ایک بین الاقوامی تحقیقی منصوبے کا دعویٰ ہے کہ عظیم مصور اور موجد لیونارڈو ڈاونچی سے منسوب جینیاتی مواد کے ممکنہ آثار حاصل کرلیے گئے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق لیونارڈو ڈاونچی سے وابستہ قدیم فن پاروں اور دستاویزات میں محفوظ حیاتیاتی نشانیاں صدیوں بعد بھی قابلِ مطالعہ ہوسکتی ہیں۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ نتائج حتمی نہیں بلکہ ابتدائی اشارے فراہم کرتے ہیں تاہم اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نایاب اور نازک تاریخی اشیا سے بھی اہم حیاتیاتی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

محققین نے ایک جدید طریقہ کار کے ذریعے قدیم خطوط کی مہر، کاغذ اور فن پاروں سے انسانوں، پودوں، جانوروں اور خرد حیاتیات کے آثار اخذ کیے۔

تحقیق کے دوران لیونارڈو ڈاونچی سے منسوب ایک چاک سے بنائی گئی تصویر پر نہایت احتیاط سے روئی کے ذریعے نمونے حاصل کیے گئے۔

جدید جینیاتی تجزیے سے پودوں کے آثار ملے جو اٹلی کے تاریخی باغات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انسانی جینیاتی مواد کے کمزور مگر قابلِ شناخت نشانات بھی سامنے آئے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ انسانی جینیاتی مواد ایک مرد سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا تعلق بحیرۂ روم کے خطے، خصوصاً وسطی اور جنوبی اٹلی سے ظاہر ہوتا ہے جو لیونارڈو ڈاونچی کے آبائی علاقے سے ہم آہنگ ہے۔

مزید برآں لیونارڈو ڈاونچی کے خاندان سے منسوب پانچ سو سال پرانے خط اور دیگر اشیا میں بھی ملتے جلتے جینیاتی آثار پائے گئے جو دیگر یورپی فنکاروں کے کام میں موجود نہیں تھے۔

ماہرین نے بتایا کہ یہ نتائج اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ ان اشیا میں محفوظ جینیاتی نشانیاں ایک ہی خاندانی سلسلے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اب تحقیق کار مزید فن پاروں اور ذاتی اشیا کا تجزیہ کرکے ان نتائج کا تقابل زندہ وارثوں سے حاصل کردہ معلومات سے کرنا چاہتے ہیں۔

اس منصوبے کا حتمی مقصد لیونارڈو ڈاونچی کی آخری آرام گاہ کی تصدیق اور ان کے جینیاتی خدوخال کی دوبارہ تشکیل ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ مکمل تصدیق ابھی باقی ہے مگر سائنسی تحقیق ایک اہم سنگِ میل عبور کرچکی ہے اور مستقبل میں تاریخی شخصیات کے بارے میں نئی جہتیں سامنے آنے کا امکان ہے۔

Leave a Reply