Posted in

گلزار کالو پوریا۔۔۔۔غریبوں کا ہمدرد لیکن بدمعاش۔۔۔

Oplus_131072

گجرات کے گاؤں مدینہ سیداں میں پیدا ہونے والا لالا گلزار رحمانی اپنے خاندان کے ساتھ بعد میں کالوپورہ منتقل ہوا تو لوگ اسے لالا گلزار کالوپوریا کہنے لگے۔ رحمانی برادری سے تعلق رکھنے والا یہ شخص اپنے والد کی طرح کاروباری مزاج رکھتا تھا اور جوانی کا ایک طویل عرصہ دبئی میں محنت مزدوری کرتا رہا۔ واپسی پر اس نے اپنے علاقے میں وہ مقام حاصل کیا کہ غریب اور مظلوم اسے اپنا مسیحا سمجھنے لگے۔
کہانی اس وقت سنگین رخ اختیار کر گئی جب ایک کمزور شخص اپنے ایک لاکھ روپے وصول نہ کر پانے کی فریاد لے کر لالا گلزار کے پاس آیا۔ رقم چوہان خاندان نے دینی تھی، جو علاقے میں طاقتور سمجھا جاتا تھا۔ لالا نے انصاف کی کوشش کی مگر چوہان وعدہ کرکے مکر گئے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دشمنی نے جنم لیا۔ ایک پولیس افسر بھائی کی پشت پناہی میں چوہان خاندان نے لالا کے ڈیرے پر حملہ کیا، فائرنگ ہوئی اور وہی تھانیدار مارا گیا۔ اس کے بعد لالا گلزار سات برس مفرور رہا، اس کے سر کی قیمت مقرر ہوئی، مگر وہ چھپ کر بھی مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہا۔
شیخوپورہ کے ایک خاندان کے نو افراد کے قتل کا بدلہ ہو یا اپنے رشتہ داروں کی رہائی، لالا گلزار نے خوف کو کبھی خود پر حاوی نہ ہونے دیا۔ آخرکار ایک دھوکے کے نتیجے میں گرفتاری، مقدمات اور سزائے موت تک کا سفر طے ہوا، مگر 2015 میں عدالت نے اسے بری کر دیا۔ آج لالا گلزار آزاد ہے، مگر اب وہ بندوق نہیں، قانون کے دائرے میں رہ کر غریبوں کی مدد کرتا ہے۔ اس کی زندگی طاقت، انتقام اور آخرکار انصاف کی تلاش کی ایک مکمل داستان ہے۔

Leave a Reply