کراچی میں یوٹیوبر رجب بٹ پر مبینہ تشدد اور لوٹ مار کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں 20 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر اشفاق احمد کی مدعیت میں سٹی کورٹ تھانے میں درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق بیرسٹر اشفاق احمد 29 دسمبر کو اپنے مؤکل رجب علی بٹ کے ہمراہ تھانہ حیدری میں درج مقدمے میں ضمانت کے سلسلے میں سٹی کورٹ پہنچے تھے۔ صبح تقریباً نو بجے جب وہ ویسٹ بلڈنگ کے احاطے میں داخل ہوئے تو اچانک رجب بٹ کے خلاف مقدمے کے مدعی، ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، اپنے 20 سے زائد وکلا ساتھیوں کے ہمراہ ان پر حملہ آور ہو گئے۔
مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ حملے کے دوران رجب بٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث انہیں چوٹیں آئیں، جبکہ بیرسٹر اشفاق احمد اور ان کے دیگر وکلا ساتھیوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔ ایف آئی آر میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس دوران رجب بٹ کے ہاتھ میں موجود بیگ زبردستی چھین لیا گیا، جس میں تین لاکھ روپے نقد موجود تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی نے بیگ تو واپس کر دیا، تاہم اس میں موجود رقم غائب تھی۔ مزید برآں، حملہ آور وکلا کی جانب سے رجب بٹ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ رجب بٹ پر تشدد کی ویڈیوز گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلا کے لباس میں ملبوس چند افراد رجب بٹ کو گریبان سے پکڑے ہوئے ہیں، جبکہ ایک شخص یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ رجب بٹ نے اپنی ایک ویڈیو میں وکلا کو “برساتی مینڈک” قرار دیا تھا اور ان کی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا۔
ویڈیوز میں مزید دیکھا جا سکتا ہے کہ اسی بنیاد پر رجب بٹ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں مکوں اور تھپڑوں سے مارا گیا اور ہاتھا پائی کے دوران ان کا گریبان بھی پھٹ گیا، جبکہ ایک وکیل یہ کہتے ہوئے سنائی دیتا ہے کہ “آج ہم نے اسے کراچی کی مہمان نوازی دکھا دی ہے”۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور قانونی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے۔
رجب بٹ پر مبینہ تشدد 20 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج۔۔۔