Posted in

انڈیا نے پاکستان میں پہلی فضائی دراندازی 1959 میں کی اور پاک فضائیہ نے اس کو روات کے قریب فضا میں ہی تباہ کر ڈالا تھا۔
عین عید کے دن، انڈیا نے جاسوسی کے لیے کینبرا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں بھیجا۔ پاکستانی شاہینوں نے اس کو انٹرسیپٹ کر کے نیچے لانے کی کوشش کی۔ وارننگ نا ماننے پر اس کو گرا ڈالا۔ دونوں پائلٹس گرفتار کر لیے گئے۔
1965 کی جنگ میں انڈیا کے 110 طیارے تباہ کیے گئے۔
1971 میں 23 انڈین طیارے تباہ ہوئے۔
1999 میں کارگل وار میں پاکستانی شاہینوں نے 2 طیارے مار گرائے۔ ایک پائلٹ پکڑا گیا۔
2019 میں بھی دو طیارے مار گرائے گئے۔ ابھی نندن پکڑا گیا۔
2025 میں انڈین کے جدید ترین 6 طیارے تباہ کیے گئے۔
پاکستان شاہین زندہ باد۔
پاکستان اور بھارت میں فرق۔۔۔۔۔

ہار اور جیت جنگوں اور کھیلوں کا حصہ ہیں۔ 1971 میں پاکستان بھارت سے جنگ ہار گیا کیونکہ پاکستان کے اندر انتشار تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا ہر لحاظ سے ہم سے بڑا اور مضبوط ملک تھا۔ دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو 1962 میں انڈیا چین سے جنگ ہار گیا تھا۔

پاکستان نے اپنی شکست کے بعد خود کو مضبوط بنایا اور انڈیا کو ہر محاذ پر چیلنچ دیا اور انڈیا کا تسلط اور دباؤ قبول نہیں کیا۔ انڈیا ایٹمی طاقت بنا تو پاکستان نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ انڈیا ہم پر حملہ آور ہوا تو ہم نے دباؤ میں آنے کے بجائے ایسا جواب دیا کہ دنیا پاکستانی افواج کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئی۔

دوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو 1962میں چین نے بھارت کو شکست دی تھی۔ بھارت اور چین کی آبادی اور وسائل میں بھی کافی مماثلت ہے مگر بھارت دن بدن چین کے آگے لیٹے جا رہا ہے۔ چین نے انڈیا کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا جیسے وادی گلوان پر چین نے قبضہ کر لیا اب لداخ اور اماچل پردیس کے کئی علاقوں میں چین پیش قدمی کر رہا ہے مگر انڈین حکومت نے چپ سادھ رکھی ہے۔ پاکستان کے خلاف مئی میں شکست کے بعد انڈیا کی جنرل نے کہا کہ ہماری جنگ چین، ترکی اور پاکستان کے ساتھ تھی۔ ترکی اور آذربائیجان پر بھارت نے کئی پابندیاں لگائی مگر چین کے خلاف ایک قدم بھی اٹھانے سے گھبراتے رہے۔ مئی کی شکست کے انڈین وزیر دفاع، انڈین وزیر خارجہ اور وزیر اعظم مودی چین کے دورے پر گئے اور چین سے اپنے تعلقات میں بہتری کی وکالت کرتے رہے۔

Leave a Reply