دو سگے بھائیوں کی 5 مختلف گروپس اور خاندانوں کے ساتھ دشمنیاں : ناانصافی اور ظلم نے کیسے دو شریف نوجوانوں کو بدمعاش بنا دیا : علاقہ ٹھیکری والا فیصل آباد سے ایک سچی کہانی : رانا رضوان اور رانا شعبان دو سگے بھائی تھے ، انکے خاندان کی علاقے میں اچھی شہرت تھی رضوان کبڈی کا مشہور کھلاڑی تھا 2004 میں مقامی سیاست کی وجہ سے انکی نمبردار گروپ سے لڑائی ہو گئی جو دشمنی میں بدلی اور آہستہ آہستہ یہ دو سگے بھائی جرائم کی دنیا میں داخل ہو گئے چنانچہ ان پر مقدمات درج ہونے لگے ، نمبردار گروپ نے ایک موقع پر دونوں بھائیوں کو شدید تش۔دد کا نشانہ بنایا یہ تھانہ کچہری گئے مگر انصاف نہ ملا پنچایت کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر فیصلہ نمبردار گروپ کے حق میں ہوا ، ایک مقامی مشہور سیاستدان کی سفارش سے نمبردار گروپ کے خلاف تھانے میں مقدمہ درج ہو گیا مگر انہوں نے اپنے اثر و رسوخ سے پرچہ خارج کروا دیا اسکے بعد جہاں دونوں بھائی نظر آتے نمبردار گروپ انکے ساتھ مار کٹائی کرتا ، تنگ آکر دونوں بھائیوں نے ہتھیار اٹھا لیے علاقے کے کمزوروں کے حق میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ظالموں کو للکارنا اور انکے سامنے کھڑا ہونا انہوں نے اپنا فرض سمجھ لیا سب سے پہلے انہوں نے ایک واقعہ میں نمبردار گروپ کے 2 افراد کو ق۔ت۔ل کیا اور مفرور ہو گئے ، انکی شہرت بڑھ رہی تھی انہوں نے لونگ گواچا کے نام سے اپنا گروپ بنا لیا انہی دنوں میں فیصل آباد کے علاقہ پینسرہ میں بھی انکی ایک گروپ سے مخالفت شروع ہو گئی ، کئی بار آمنا سامنا ہوا کئی کئی گھنٹے فائیر۔نگ جاری رہتی ، بدقسمتی سے رانا رضوان اور رانا شعبان کے لونگ گواچا گروپ کی علاقے میں ارائیں گروپ سے بھی مخالفت پیدا ہو گئی اب ایک گروپ کے مقابلے پر تین گروپ تھے مگر یہ تینوں دشمنیوں کو لے کر چلنے لگے اسی اثنا میں لونگ گواچا گروپ علاقے میں خوف کی علامت بن گیا ، اور مخالفین سے مختلف واقعات میں ہوئے جھگڑوں میں کئی لوگ لقمہ اجل بنے، اب لونگ گواچا کے مخالفین میں علاقے کا ایک سیاسی خاندان بھی شامل ہو چکا تھا چنانچہ لونگ گواچا گروپ کی اب 5 خطرناک دشمنیاں عروج پر تھیں اور پانچوں کے ساتھ پنگا جاری رہتا تھا یہ زندہ دشمنوں کے ہاتھ تو نہ لگ سکے لیکن مخالفین نے پیسہ چلا کر ان دونوں بھائیوں سے جان چھڑائی ، دونوں بھائی مختلف اوقات میں گرفتار ہوئے رانا رضوان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ فیصل آباد کے علاقہ ملاں روڈ میں اسکو اس وقت اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے جب پولیس اسے برآمدگی کے لیے لے کر رہی تھی تو ساتھی چھڑانے آگیئے اور یوں علاقہ میں خوف کی علامت رانا رضوان عرف لونگ گواچا اپنے انجام کو پہنچا ، جبکہ اسکا بھائی شعبان ایک مقدمے میں جیل میں ہے ۔۔ سچ کہتے ہیں جرم کی دنیا وہ دلدل ہے جس میں ایک بار داخلے کے بعد واپسی کا راستہ نہیں ملتا ۔۔۔۔
دو بھائیوں کی خطرناک دشمنیاں ۔۔۔۔۔۔