اسلام آباد: ممتاز ناول نگار اور صحافی نسیم حجازی کی تیسویں برسی آج دو مارچ بروز پیر کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔
نسیم حجازی نہ صرف صحافی و ادیب تھے بلکہ انہوں نے اپنی صحافت کے ذریعے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے لیے اپنی بھرپور توانائیوں و صلاحیتوں کا استعمال کیا۔
یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے اکثر سردار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر نسیم حجازی بلوچستان میں نہ ہوتے تو بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق ناممکنات میں سے تھا۔
نسیم حجازی اردو ادب کے ان ممتاز ناول نگاروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے تاریخی ناول نگاری کو نئی جہت عطا کی۔
انہوں نے ستائیس ناول لکھے، ان کے مشہور ناولوں میں داستان مجاہد، خاک اور خون، شاہین، آخری چٹان اور یوسف بن تاشفین شامل ہیں، جنہوں نے نوجوان نسل میں اسلامی تاریخ اور تہذیب سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ادبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نسیم حجازی کے ناول نہ صرف دلچسپ اور پراثر ہیں بلکہ وہ قاری میں حریت، خودی اور قومی تشخص کا شعور بھی بیدار کرتے ہیں۔
ان کی تحریروں میں تاریخی واقعات کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ قاری خود کو اس دور کا حصہ محسوس کرتا ہے۔نسیم حجازی صحافت کے میدان میں بھی فعال رہے اور اپنی تحریروں کے ذریعے قومی و ملی مسائل پر جرات مندانہ اظہار خیال کیا۔
انہوں نے روزنامہ زمانہ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا اور پھر مختلف اخبارات میں اپنی تحریروں کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو جگایا، روزنامہ تعمیر اور روزنامہ تنظیم کے علاوہ انہوں نے اپنا اخبار روزنامہ کوہستان نکالا جس نے اخباری دنیا میں انقلاب پیدا کردیا۔
ان کی صحافتی خدمات نے اردو صحافت میں سنجیدگی اور مقصدیت کو فروغ دیا۔ماہرین کے مطابق نسیم حجازی صرف ادیب ہی نہیں بلکہ تحریکِ پاکستان کے ایک متحرک کارکن بھی تھے۔
انہوں نے صحافت اور عملی جدوجہد کے ذریعے قیامِ پاکستان کے مقصد کو آگے بڑھایا۔ خاص طور پر بلوچستان کی پاکستان سے الحاق کی جدوجہد میں ان کی خدمات کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔ جہاں انہوں نے سیاسی و صحافتی سطح پر عوامی رائے ہموار کرنے اور پاکستان کے حق میں شعور بیدار کرنے میں کردار ادا کیا۔
ادبی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نسیم حجازی نے اپنے قلم اور عملی کوششوں سے بلوچستان میں پاکستان کے ساتھ وابستگی کے جذبے کو تقویت دی جو بعد ازاں قومی وحدت کے استحکام کا باعث بنا۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نوجوان نسل ان کے افکار اور جدوجہد سے آگاہی حاصل کرکے قومی تاریخ کو بخوبی سمجھ سکتی ہے۔