ریاض خلیج سے انخلا کرنے والے امیر افراد کیلئے اہم ٹرانزٹ حب بن گیا
دبئی سے ریاض تک تقریباً 10 گھنٹے کی سڑک کے سفر کیلئے نجی سیکیورٹی کمپنیاں ایس یو ویز کے قافلے بک کر رہی ہیں
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد خلیجی ریاستوں میں پھنسے امیر افراد اور اعلیٰ کارپوریٹ عہدیداروں نے محفوظ راستے کی تلاش میں سعودی دارالحکومت کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں دبئی اور ابوظہبی جیسے شہر عالمی سرمایہ کاروں اور امیر طبقے کیلئے پُرکشش مراکز بنے رہے، تاہم ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین میں فضائی آپریشن متاثر ہونے سے ریاض خطے کا واحد بڑا ہوائی اڈہ بن گیا جو معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دبئی سے ریاض تک تقریباً 10 گھنٹے کی سڑک کے سفر کیلئے نجی سیکیورٹی کمپنیاں ایس یو ویز کے قافلے بک کر رہی ہیں، جہاں سے نجی یا کمرشل پروازوں کے ذریعے یورپ اور دیگر مقامات کیلئے روانگی ممکن ہو رہی ہے۔
نجی جیٹ بروکریج فرم کے چیف ایگزیکٹو امیرہ نارن کے مطابق ریاض سے یورپ کیلئے نجی جیٹ کا کرایہ 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ برطانیہ میں قائم سیکیورٹی کمپنی علما رسک نے بھی تصدیق کی ہے کہ خاندانوں، کارپوریشنز اور اعلیٰ مالیت کے افراد کی بڑی تعداد محفوظ انخلا کیلئے رابطہ کر رہی ہے۔
ابتدائی طور پر عمان کو متبادل راستہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ایرانی حملوں کے بعد وہ راستہ بھی بند ہوگیا، جس کے بعد ریاض واحد قابلِ عمل آپشن بن کر سامنے آیا۔
ماضی میں یمن میں حوثی حملوں اور سخت مذہبی قوانین کے باعث سعودی عرب کو نسبتاً کم محفوظ سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں ویزا پالیسی میں نرمی اور اصلاحات کے بعد ریاض کا تاثر تبدیل ہوا ہے۔ کئی ممالک کے شہریوں کو اب آن ارائیول ویزا مل رہا ہے، جس سے فوری سفر ممکن ہو گیا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ سعودی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران پر حملے کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اب تک ریاض بڑے حملوں سے محفوظ رہا ہے اور شہر میں معمولاتِ زندگی بڑی حد تک جاری ہیں، اگرچہ کچھ غیر ملکی اسکولوں نے آن لائن کلاسز شروع کی ہیں اور چند اداروں نے ورک فرام ہوم کی ہدایات جاری کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو ریاض کی حیثیت بطور علاقائی ٹرانزٹ حب مزید مضبوط ہو سکتی ہے، تاہم یہ سب خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر منحصر ہوگا۔