Posted in

اے آئی کے بڑھتے خطرات؛ کیا پاکستان میں ’’گروک‘‘ پر پابندی عائد ہوگی؟

اے آئی کے بڑھتے خطرات؛ کیا پاکستان میں ’’گروک‘‘ پر پابندی عائد ہوگی؟

گروک کے ذریعے پیدا ہونے والے ممکنہ آن لائن خطرات پر بڑھتی ہوئی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

پاکستان میں اے آئی چیٹ بوٹ ’’گروک‘‘ کے ذریعے پیدا ہونے والے ممکنہ آن لائن خطرات پر بڑھتی ہوئی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

عالمی سطح پر، ملائشیا اور انڈونیشیا نے گروک کے خلاف کارروائی کی کیونکہ اس نے صارفین کو حقیقی افراد کی جنسی تصاویر بنانے کی سہولت دی جس نے آن لائن ’’انڈریس‘‘ ٹرینڈ کو تیز کیا۔ بھارت، برطانیہ، اور آسٹریلیا میں بھی اسی نوعیت کی پالیسیز پر غور کیا جارہا ہے۔

پاکستان نے ابھی تک گروک پر کوئی پابندی یا باقاعدہ کارروائی نہیں کی مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پاکستانی ڈیجیٹل سیفٹی کے لیے اہم ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ ہراسگی، بلیک میلنگ اور تصویروں کے غلط استعمال کی شکایات بڑھ رہی ہیں اور متاثرین میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقصان دہ مواد بڑے پیمانے پر تیار ہونا روایتی قوانین کے لیے چیلنج بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے معاشرے میں حقیقی افراد کی جنسی تصاویر کا آن لائن پھیلاؤ شہرت، سماجی اور خاندانی زندگی کو شدید نقصان پہنچاسکتا ہے۔ بچوں کی حفاظت اور آگاہی بھی اس معاملے میں اہم ہے۔

ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ مکمل پابندیاں نہیں بلکہ مؤثر حکومتی نگرانی، اے آئی کے حفاظتی فلٹرز، تیز کارروائی کے میکانزم اور صارفین میں آگاہی ضروری ہے۔

پاکستان کو اب ایک قانونی اور قابل نفاذ قومی اے آئی سیفٹی فریم ورک تیار کرنا ہوگا تاکہ مصنوعی ذہانت کے نقصان دہ اثرات سے بچا جاسکے اور آن لائن صارفین، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ وقت صرف ٹیکنالوجی کے فوائد کے حصول کا نہیں بلکہ ذمہ داری اور حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا ہے ورنہ پاکستان کی ڈیجیٹل دنیا خطرے میں رہے گی۔

Leave a Reply