امریکا کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا بھی ایرانی حکومت کو انتباہ
ایران کی صورتحال پر تشویش ہے، ایرانی سکیورٹی فورسز پر تشدد سے باز رہیں، مشترکہ بیان
کراچی: امریکا کے بعد فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران کو مظاہرین پر تشدد سے باز رہنے کا انتباہ جاری کردیا ہے۔
ایران میں جاری کشیدہ صورت حال پر فرانسیسی صدر، برطانوی وزیراعظم اور جرمن چانسلر نے مشترکہ بیان جاری کردیا ہے۔
مشترکہ بیان میں مظاہرین کی ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کے تشدد پر تشویش ہے، بیان میں ایرانی سکیورٹی فورسز پر زور دیا گیا ہےکہ وہ تشدد سے باز رہیں۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آبادی کا تحفظ کریں اور آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کی اجازت دیں۔
یورپی حکمرانوں نے عوام کے احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ عوام کو کسی بھی قسم کی انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اپنے حقوق استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ایک انٹر ویو کے دوران متنبہ کرچکے ہیں کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں ، انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی ہے، جن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں۔
ادھر مغربی ذرائع ابلاغ ہلاکتوں کی تعداد 217 سے زائد بتا رہے ہیں۔