Posted in

ای سگریٹ؛ تمباکو کا متبادل نہیں، نئی لت اور کینسر کا خطرہ

ای سگریٹ؛ تمباکو کا متبادل نہیں، نئی لت اور کینسر کا خطرہ

دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگ ای سگریٹ استعمال کررہے ہیں جن میں 1.5 کروڑ بچے شامل ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اگرچہ نیکوٹین والے ای سگریٹ تمباکو چھوڑنے میں کچھ حد تک مددگار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صحت کے لیے مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں اور ان کے استعمال سے بچنا ہی بہتر ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر 100 میں سے صرف 2 سے 5 افراد ہی ای سگریٹ کے ذریعے سگریٹ چھوڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں جب کہ باقی افراد نہ صرف تمباکو کی لت سے چھٹکارا نہیں پا پاتے بلکہ ای سگریٹ کی نئی لت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔

صحت کے لیے سنگین خطرات

فروری 2026 کی ایک تحقیق نے تصدیق کی ہے کہ ای سگریٹ استعمال کرنے والے بھی کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز سے محفوظ نہیں رہتے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ای سگریٹ میں موجود نیکوٹین بچوں اور نوجوانوں میں شدید لت کا سبب بن رہی ہے جو ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ ای سگریٹ نے برسوں کی تمباکو نوشی کے خلاف پیش رفت کو نقصان پہنچایا ہے۔

2025 کے تخمینوں کے مطابق دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگ ای سگریٹ استعمال کررہے ہیں جن میں 1.5 کروڑ بچے شامل ہیں۔

ماہرین کا مشورہ

تمباکو چھوڑنے کے خواہشمند افراد کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ڈاکٹر کی نگرانی میں محفوظ طریقے اپنائیں، نہ کہ ای سگریٹ جیسے غیر محفوظ ذرائع کا سہارا لیں۔

ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ای سگریٹ کی فروخت اور تشہیر پر سخت پابندیاں عائد کریں۔

Leave a Reply