وزیرخزانہ نے مشرق وسطیٰ تنازعہ عالمی معیشت کے لیے بڑا سپلائی شاک قرار دے دیا
امریکا میں پاکستان کی معیشت پر ہارورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن کا انعقاد ہوا
واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرق وسطیٰ تنازعہ عالمی معیشت کے لیے بڑا سپلائی شاک قرار دے دیا ہے۔
امریکا میں پاکستان کی معیشت پر ہارورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ سطحی پینل ڈسکشن کا انعقاد ہوا جس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورو بانڈ ادائیگی “نان ایونٹ” رہی، بیرونی ادائیگیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھا، ابتدائی سبسڈی کے بعد توانائی قیمتوں کی مکمل منتقلی، ٹارگٹڈ سبسڈی جاری ہے، پاکستان نے بحران کے باوجود صورتحال بہتر انداز میں سنبھالی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ کراچی پورٹ پر ٹرانزٹ ٹریفک میں ریکارڈ اضافہ ہوا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں مارچ میں ریکارڈ ترسیلات آئیں، ترسیلات زر پائیدار حل نہیں، برآمدات پر توجہ ضروری ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اصل چیلنج اصلاحات پر عملدرآمد ہے، ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کی کاوش ہے، ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کا عمل جاری ہے، صنعت کے لیے مستقل سبسڈی کا خاتمہ، مسابقتی ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے، ٹیرف میں اصلاحات، عالمی منڈی سے انضمام کی کوششیں کر رہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ملک میں شمسی توانائی 8000 میگاواٹ تک پہنچ گئی، قابل تجدید توانائی کے حصے میں مزید اضافہ ہدف ہے، چاروں صوبوں میں زرعی آمدن ٹیکس قانون سازی مکمل کی گئی، 28 سرکاری ادارے نجکاری کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کو بھیجے گئے، آبادی میں اضافہ اور ماحولیاتی تبدیلی بڑے چیلنجز ہیں، کاروباری ماحول بہتر بنانا حکومت کی ترجیحات ہیں۔