ایک اہم سفارتی مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے، جو بظاہر کسی اتفاقِ رائے کے بغیر ختم ہوا، لیکن اس کے باوجود اس نے خطے کی اسٹریٹجک صورتحال کو ایسے انداز میں تبدیل کر دیا ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتا۔ حالیہ مذاکراتی دور کسی باضابطہ معاہدے پر منتج نہیں ہوا اور بظاہر حالات دوبارہ اپنی سابقہ سطح پر آ گئے ہیں۔ توقع کے مطابق اس پر فوری تبصرے اور جلدی میں اخذ کیے گئے نتائج سامنے آئے۔ تاہم اس شور کے نیچے ایک زیادہ پائیدار حقیقت موجود ہے: اس عمل نے تصورات کو بدلا، سفارتی گنجائش پیدا کی اور ایسے خطرناک راستوں کو روکا جو کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتے تھے۔
پاکستان کا کردار، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کشیدگی اپنے عروج پر تھی اور تصادم کے امکانات حقیقی اور ممکنہ طور پر تباہ کن تھے، محض سادہ ہاں یا ناں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ سفارتی فضا پیدا کرنا، کشیدگی کو کم کرنا اور مکالمے کو ممکن بنانا بذاتِ خود اسٹریٹجک کامیابیاں ہیں۔ موجودہ عالمی سیاست میں بگاڑ کو روکنا اکثر کسی معاہدے کے حصول جتنا ہی اہم ہوتا ہے، مگر یہی فرق موجودہ بیانیے میں دانستہ طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مشرقی سرحد کے پار ردعمل فوری اور روایتی طور پر نمائشی رہا۔ بھارتی مرکزی دھارے کا میڈیا، جو حال ہی میں پاکستان کے کشیدگی کم کرنے میں کردار کو تسلیم کرنے میں مشکل محسوس کر رہا تھا جس کی جانب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے عالمی رہنما بھی اشارہ کر چکے تھے اب حیران کن تیزی سے اپنا مؤقف بدل چکا ہے۔ بیانیہ انکار سے نکل کر فتح کے دعوے تک جا پہنچا ہے۔ غیر حتمی مذاکراتی مرحلے کو سابقہ شکوک و شبہات کی توثیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو پہلے سے موجود کہانی کو سہارا دینے کا ایک آسان ذریعہ بن گیا ہے۔
اس ردعمل کا انداز بہت کچھ ظاہر کرتا ہے۔ وہ اینکرز جو چند روز قبل عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کے اعتراف سے پریشان دکھائی دیتے تھے، اب پرجوش نظر آتے ہیں۔ آوازیں بلند ہیں، نتائج جلدی میں اخذ کیے جا رہے ہیں اور ایسے مباحث ترتیب دیے جا رہے ہیں جو ایک ہی مؤقف کو تقویت دیں۔ معاہدہ نہ ہونے کو حتمی ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ کچھ حاصل نہیں ہوا۔ پیچیدگی کو سادگی میں بدل دیا گیا ہے، عمل کو نظر انداز کر کے فوری نتائج پر زور دیا جا رہا ہے اور باریکیوں کو بیانیہ وضاحت کی خاطر قربان کر دیا گیا ہے۔ یوں تجزیے کے بجائے ایک منظم “پرفارمنس” سامنے آتی ہے، جو ترتیب میں تو درست مگر مواد میں کمزور ہے۔
اس ماحول میں بہت سے افراد کے لیے یہ بیانیہ دوبارہ حاصل کرنے کا موقع بن چکا ہے۔ معاہدہ نہ ہونے کو محض ایک وقفہ نہیں بلکہ مکمل اختتام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ تشریح ایک بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ اعلیٰ سطح کی سفارتکاری، خاص طور پر حساس حالات میں، کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ یہ بتدریج آگے بڑھتی ہے، رکاوٹوں سے گزرتی ہے، خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالتی ہے اور پھر آگے بڑھتی ہے۔ کسی ایک مرحلے کو حتمی قرار دینا اس پورے عمل کو نہ سمجھنے کے مترادف ہے۔
زیادہ حیران کن بات ردعمل کی یکسانیت ہے۔ مختلف چینلز پر ایک ہی طرز نظر آتا ہے: بلند آوازیں، تیار شدہ غصہ اور پاکستان کے کردار کو کم تر دکھانے کی مسلسل کوشش۔ مباحث ایسے ترتیب دیے جاتے ہیں جہاں اتفاقِ رائے پہلے سے طے شدہ ہو، اختلافی آوازیں غیر مؤثر بنا دی جائیں اور غیر موافق حقائق کو یا تو نظر انداز کیا جائے یا ڈرامائی انداز میں چیلنج کیا جائے۔ ایک اینکر عالمی اعتراف کو “معمول کی سفارتی سرگرمی” قرار دیتا ہے، دوسرا پورے عمل کو “متوقع ڈرامہ” کہتا ہے، جبکہ تیسرا پورے یقین سے دعویٰ کرتا ہے کہ “کچھ بھی نہیں بدلا۔” اعتماد نمایاں ہے مگر تجزیاتی گہرائی واضح طور پر کمزور ہے۔
یہ طرزِ عمل اتفاقی نہیں بلکہ ایک گہرے رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بیانیہ سازی، معروضی تجزیے کی جگہ لے لیتی ہے۔ جب کوئی پیش رفت پہلے سے قائم تصورات کو چیلنج کرتی ہے تو ردعمل حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے نئے بیانیے تخلیق کرنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ شکوک پیدا کیے جاتے ہیں، نیتوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، متبادل تشریحات گھڑی جاتی ہیں اور معلومات کا ایسا سیلاب لایا جاتا ہے کہ اصل حقیقت دھندلا جائے۔ یہ طریقہ قائل کرنے سے زیادہ الجھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تاہم اس بار اس طریقے کی ایک حد سامنے آئی ہے۔ عالمی معلوماتی نظام اب یکطرفہ بیانیہ سازی کا محتاج نہیں رہا۔ آج اعتراف مختلف معتبر ذرائع سے سامنے آتا ہے اور ایک بار قائم ہو جائے تو محض لہجے کی تبدیلی سے ختم نہیں ہوتا۔ پاکستان کا کردار، جو کشیدگی کم کرنے میں واضح، قابلِ جائزہ اور تسلیم شدہ ہے، پہلے ہی عالمی سطح پر درج ہو چکا ہے۔ اسے بعد ازاں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں ایک دلچسپ تضاد بھی موجود ہے۔ وہی آوازیں جو پہلے پاکستان کے کردار کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اب معاہدہ نہ ہونے کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہیں، گویا اس سے پورا عمل ہی بے معنی ہو گیا ہو۔ شور میں اضافہ ہوا ہے، لہجہ تیز ہوا ہے، مگر اندرونی بے چینی اب بھی نمایاں ہے۔ یہ اعتماد نہیں بلکہ ایک وقتی سکون ہے، جسے پرانے بیانیے کی بحالی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس شور میں ایک بڑی حقیقت نظر انداز ہو رہی ہے: پاکستان کی سفارتی تاریخ، جس میں اس نے بارہا پیچیدہ اور خطرناک حالات میں مداخلت کر کے عالمی اثرات مرتب کیے۔ حالیہ کوشش اسی تسلسل کا حصہ ہے۔
اس پس منظر میں حالیہ کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ شدید دشمنی میں الجھے فریقین کے درمیان رابطہ قائم کرنا، جہاں تصادم نہ صرف بڑھ سکتا تھا بلکہ وسیع عدم استحکام کا سبب بن سکتا تھا، کوئی معمولی سفارتی عمل نہیں تھا۔ یہ ایک بڑی سطح کی مداخلت تھی، جس نے دو بنیادی اصولوں کو اجاگر کیا: اپنی صلاحیت پر یقین اور وقت کے ساتھ حاصل کیا گیا اعتماد۔ یہ محض نظریاتی باتیں نہیں بلکہ اسٹریٹجک اثاثے ہیں۔
اس کامیابی کو مزید نمایاں بنانے والی چیز وہ ماحول تھا جس میں یہ ممکن ہوئی۔ روایتی سفارتی طاقت کے مراکز یا تو محدود نظر آئے یا غیر فعال۔ عالمی ادارے مؤثر کردار ادا نہ کر سکے، علاقائی گروہ تقسیم کا شکار رہے اور اہم ممالک ہچکچاتے رہے۔ ایسے میں پاکستان نے آگے بڑھ کر اپنی حیثیت سے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالی، جو اس کے تجربے کے مطابق تھی۔ اس نے صرف خلا کو پُر نہیں کیا بلکہ اپنی اسٹریٹجک اہمیت کو بھی بڑھایا۔
ان مذاکرات کا مستقبل جو بھی ہو، ایک حقیقت واضح ہے: پاکستان نے ایسے وقت میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا جب پیچھے ہٹنا آسان تھا۔ اس نے ایک ایسے تنازعاتی ماحول میں ثالثی کی ذمہ داری قبول کی جہاں فوری کامیابی یقینی نہیں تھی، مگر غیر فعالیت کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتے تھے۔ یوں اس نے ایک ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان کا طرزِ عمل اس شور کے برعکس متوازن اور مستقل رہا۔ نہ غیر ضروری دعوے کیے گئے، نہ حد سے زیادہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی دفاعی انداز اپنایا گیا۔ توجہ مکالمے، تحمل اور تسلسل پر رہی۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ اسٹریٹجک نظم و ضبط ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں ساکھ بیانات سے نہیں بلکہ نتائج سے بنتی ہے۔
یوں ایک واضح فرق سامنے آتا ہے: ایک طرف فوری ردعمل پر مبنی میڈیا بیانیہ، جو ہر واقعے کو فوری جیت یا ہار کے تناظر میں دیکھتا ہے؛ اور دوسری طرف ایک طویل المدتی اسٹریٹجک سوچ، جو مجموعی اثرات کو اہمیت دیتی ہے۔ پہلا عارضی اور ردعمل پر مبنی ہے، جبکہ دوسرا پائیدار اور سوچ سمجھ کر اپنایا گیا راستہ ہے۔
اس پہلے طرزِ عمل کی قیمت صرف بیانیاتی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ جب بحث عمل سے ہٹ کر منتخب تشریحات تک محدود ہو جائے تو عوامی سمجھ متاثر ہوتی ہے اور پالیسی سازی بھی محدود ہو جاتی ہے۔ فیصلے ایک ایسے دائرے میں ہونے لگتے ہیں جہاں مفروضے چیلنج نہیں ہوتے بلکہ مضبوط کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے کردار کو کم کرنے کی کوشش میں بھارتی میڈیا نے الٹا اسے مزید نمایاں کر دیا ہے۔
آخرکار، یہ کہانی کسی ناکام مذاکرات کی نہیں بلکہ ایک ایسے عمل کی ہے جس نے کشیدگی کو کم کیا، مکالمے کی راہ ہموار کی اور اسٹریٹجک گنجائش پیدا کی چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے، جو بظاہر خاموش مگر حقیقت میں نہایت اہم ہے۔ یہ ایسی کامیابی نہیں جو فوری جشن کا باعث بنے، نہ ہی آسانی سے ناپی جا سکتی ہے، مگر بین الاقوامی تعلقات میں یہی اقدامات استحکام اور بحران کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں۔
جو لوگ جغرافیائی سیاست کا مطالعہ کرتے ہیں یا قومی سلامتی کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتے ہیں، وہ ایسے لمحات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ ممالک کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ اس کے دھارے کو براہِ راست متاثر کریں۔ جب ایسا موقع ملتا ہے تو کامیابی کا معیار فوری تعریف نہیں بلکہ دیرپا اثر ہوتا ہے۔ اسی معیار پر دیکھا جائے تو پاکستان اور اس کی قیادت نے بامقصد کردار ادا کیا ہے، جس کی مکمل اہمیت وقت کے ساتھ سامنے آئے گی۔
فی الحال شور برقرار رہے گا بلند، مسلسل اور فوری نتائج اخذ کرنے کے لیے بے چین۔ مگر اس کے پیچھے ایک زیادہ اہم عمل جاری ہے، اور وقت کے ساتھ یہ فرق واضح ہوتا جائے گا کہ کون حالات کو تشکیل دیتا ہے اور کون صرف ان پر ردعمل دیتا ہے۔
تحریر: ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر