Posted in

ایران پر حملے میں امریکی فوج نے ممنوعہ اے آئی کیسے استعمال کی؟

واشنگٹن: امریکی فوج نے حالیہ ایران پر میزائل حملوں کے دوران مصنوعی ذہانت کے نظام کو استعمال کرنے کی تصدیق کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے اینتھروپک نامی کمپنی کے تیار کردہ کلاؤڈ اے آئی ماڈل کو انٹیلی جنس جائزوں، اہداف کی نشاندہی اور جنگی منظرناموں کے لیے استعمال کیا۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی کا حکم جاری کیے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی فوج نے یہ آپریشن انجام دیا۔

معاہدے کے تنازع نے صورت حال پیدا کی

یہ تنازع اینتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان طے پانے والے 200 ملین ڈالر کے معاہدے کی شرائط پر پیدا ہوا۔ کمپنی نے واضح کیا تھا کہ وہ دو شرائط پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

پہلی شرط امریکی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی ممانعت تھی جب کہ دوسری شرط مکمل طور پر خودکار ہتھیاروں کے نظام میں اس کے استعمال سے متعلق تھی۔

اینتھروپک کی جانب سے ان حفاظتی پہلوؤں پر سختی کے باعث محکمہ دفاع کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوگئے جس کے بعد پینٹاگون نے کمپنی کو قومی سلامتی کے لیے سپلائی چین کے خطرے کے زمرے میں شامل کردیا۔

ٹرمپ کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز تمام وفاقی اداروں کو کلاؤڈ اے آئی کا استعمال فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اینتھروپک کو ’’انتہائی بائی بازو کی اے آئی کمپنی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے وابستہ افراد کو حقیقی دنیا کا کوئی علم نہیں ہے۔

اس حکم کے باوجود پینٹاگون نے وضاحت کی کہ متبادل فراہم کنندگان کی تلاش کے دوران اینتھروپک چھ ماہ تک اپنی خدمات جاری رکھے گا۔

فوجی نظام سے اے آئی کا خاتمہ مشکل

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار جب مصنوعی ذہانت کا نظام فوجی انفراسٹرکچر میں ضم ہوجائے تو اسے نکالنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس میں انضمام کے اخراجات، نئی تربیت، حفاظتی سرٹیفیکیشن اور متوازی جانچ جیسے پیچیدہ مراحل شامل ہیں جس کی وجہ سے اسے تبدیل کرنے کا عمل نہ صرف طویل بلکہ انتہائی مہنگا بھی ہوتا ہے۔

دریں اثناء اوپن اے آئی نے خفیہ فوجی نیٹ ورکس کے لیے محکمہ دفاع کے ساتھ علیحدہ معاہدے کا اعلان کردیا ہے۔

Leave a Reply