معدے کے بیکٹیریا اور نشہ: سائنسدانوں کی حیران کن دریافت
یہ تحقیق معدے کے بیکٹیریا اور انسانی صحت کے تعلق کو مزید واضح کرتی ہے۔
ماہرین نے ایک بڑی تحقیق میں تصدیق کی ہے کہ آٹو بریوری سنڈروم (اے بی ایس) نامی نایاب طبی حالت میں لوگوں کا نشے میں آنا اصل میں خمیری عمل سے نہیں بلکہ بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔
یہ بیماری ان افراد میں ظاہر ہوتی ہے جو کچھ کھانے کے بعد نشے میں آجاتے ہیں، حالانکہ انہوں نے شراب نوشی یا نشہ آور چیزیں استعمال نہیں کی ہوتیں۔
تحقیق میں اے بی ایس 22 کے مریضوں اور ان کے ساتھیوں کے معدے کے نمونے کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج میں نشے کی علامات کے دوران دو بیکٹیریا کی اقسام کلیبسئیلا نیومونیا اور ایشرشیا کولی مریضوں میں زیادہ پائی گئیں۔
یہ بیکٹیریا معدے میں موجود غذائی اجزاء سے ایتھانول پیدا کرتے ہیں جو خون میں شراب کی سطح بڑھاکر جگر کو نقصان پہنچاسکتا ہے اور سماجی و قانونی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک مریض کی علامات اس وقت نمایاں حد تک بہتر ہوگئیں جب اسے دو بار صحت مند عطیہ دہندگان سے معدے کے بیکٹیریا منتقل کیے گئے۔ اس کے بعد وہ تقریباً 16 ماہ تک علامات سے آزاد رہا اور اس کا معمول کا رویہ بحال ہوگیا۔
ماہرین کے مطابق اس بیماری کے علاج میں ممکنہ طریقے شامل ہوسکتے ہیں جن میں خوراک میں تبدیلی، پروبایوٹکس یا معدے کے بیکٹیریا کی منتقلی شامل ہیں۔
بعض کیسز میں خمیر یا فنگس بھی کردار ادا کرسکتا ہے مگر زیادہ تر مریضوں میں مسئلہ بیکٹیریا کی غیر متوازن موجودگی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ معدے کے بیکٹیریا نہ صرف اے بی ایس بلکہ دیگر جگر کی بیماریوں جیسے فیٹی لیور میں بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ تحقیق معدے کے بیکٹیریا اور انسانی صحت کے تعلق کو مزید واضح کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس شعبے میں مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔