بجلی کے عجیب و غریب مظاہر؛ سائنس کیا کہتی ہے؟
بجلی کی روشنی کا صدیوں سے مذہب، دیومالائی کہانیوں اور ثقافت میں خاص مقام ہے۔
بجلی کی روشنی صدیوں سے انسانی توجہ کا مرکز رہی ہے اور مذہب، دیومالائی کہانیوں سمیت ثقافت میں اس کا خاص مقام ہے۔ مثلاً دیوتا تھور یا ہندو دیوتا اندرا کی مثالیں جب کہ آسٹریلیا میں فرسٹ نیشنز کی تصویری فنکاری میں بھی اس کی نمائندگی ملتی ہے۔
بجلی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بادلوں میں برقی چارج جمع ہوجاتا ہے۔ یہ عمل بالکل ایسے ہے جیسے بالوں کو برش کرنے یا جمپ کرنے سے بال کھڑے ہوجاتے ہیں۔
لیکن بہت زیادہ شدت کے ساتھ۔ بادلوں میں برقی چارج کی یہ جمع آوری ہوا کے مختلف درجہ حرارت کے اوپر نیچے جانے سے ہوتی ہے۔
جب چارج حد سے زیادہ ہوجاتا ہے تو برق ہوا میں سفر کرتی ہے اور ہم اسے روشنی کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ روشنی کے جھٹکے کے ساتھ ساتھ گرج کی آواز آتی ہے جو بعد میں پہنچتی ہے جس سے بجلی کی فاصلے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
زمین پر دو اہم قسم کی بجلی پائی جاتی ہے جن میں بادل کے اندر اور بادل سے زمین تک جب کہ بادل کے اندر بجلی صرف بادل میں حرکت کرتی ہے اور بادل سے زمین تک والی بجلی انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ نایاب قسم کی بجلی بھی دیکھی جاتی ہے جیسے جنگلاتی آگ یا آتش فشاں کے دھوئیں میں پیدا ہونے والی بجلی اور اوپری فضا میں ظاہر ہونے والے سرخ، نیلے یا روشن حلقے۔
گرمی کے اثرات کے تحت طوفانی بادل اور بجلی کی شدت بڑھ سکتی ہے۔ زیادہ گرم ہوا میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے طوفان اور بجلی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے اوزون پیدا ہوتا ہے جو فضا میں حرارت بڑھاسکتا ہے اور آلودگی کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ بجلی عالمی حرارت کی بنیادی وجہ نہیں ہے لیکن یہ ماحول پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس لیے طوفانی روشنی کا مظاہرہ دیکھتے وقت محفوظ فاصلے سے لطف اٹھانا ضروری ہے۔ بجلی زمین کے علاوہ مریخ جیسی دیگر دنیاؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔