سانحہ گل پلازہ، تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج طلب
اموات 26، لاپتہ افراد 76، ڈی این اے کے ذریعے شناخت کا عمل تیز
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان شرکت کریں گے، جبکہ کمیٹی میں مزید افسران کو شامل کرنے کا فیصلہ بھی اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی ہے، جو سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کی وجوہات، حفاظتی انتظامات میں ممکنہ کوتاہیوں اور ذمہ داران کے تعین کا جائزہ لے گی۔
دوسری جانب سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی ہے، جبکہ سندھ حکومت کے ہیلپ ڈیسک کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد 76 تک جا پہنچی ہے۔ حکام کے مطابق مزید تین افراد کو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
پولیس سرجن سول اسپتال کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ اب تک منتقل کی گئی لاشوں میں سے 20 کے ڈی این اے نمونے لے لیے گئے ہیں جبکہ مزید لاشوں سے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شناخت کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اپنا اینٹی مارٹم بلڈ سیمپل سول اسپتال میں جمع کرائیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازہ سے ملنے والی ایک اور لاش کی شناخت ہو گئی ہے، جس کی شناخت تنویر احمد خان ولد ابو الکلام کے نام سے ہوئی ہے۔
تنویر احمد کورنگی نمبر چار کا رہائشی تھا اور گل پلازہ میں بطور سیلز مین کام کرتا تھا۔ متوفی کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا اور اس کی شناخت موقع سے ملنے والے شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہو سکی۔
پولیس کے مطابق اب تک لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل سات افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ شناخت اور تلاش کا عمل تاحال جاری ہے۔