Posted in

ناسا کا طاقتور ترین راکٹ چاند کے گرد انسان بردار پرواز کے لیے تیار

ناسا کا طاقتور ترین راکٹ چاند کے گرد انسان بردار پرواز کے لیے تیار

II مشن کی ممکنہ لانچ 6 فروری کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوگی

ناسا اپنے اب تک کے طاقتور ترین راکٹ کو چاند کے گرد انسان بردار مشن کے لیے لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

اس راکٹ کی لانچنگ نصف صدی سے زائد عرصے بعد خلا میں انسانی سفر کا ایک تاریخی سنگِ میل ہوگی۔

ناسا کے مطابق آرٹیمس II مشن کی ممکنہ لانچ 6 فروری کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوگی۔

اس مشن کے تحت چار خلا باز 6 لاکھ 85 ہزار میل کا سفر طے کرتے ہوئے تقریباً 10 دن بعد بحرالکاہل میں بحفاظت واپس آئیں گے۔

مزید پڑھیں: ناسا کا چاند پر ایٹمی بجلی گھر قائم کرنے کا منصوبہ

یہ اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ کی دوسری آزمائشی پرواز اور پہلی انسان بردار مہم ہوگی۔

خلا باز ریڈ وائزمن، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیرمی ہینسن اورین کیپسول میں سفر کریں گے، جہاں وہ لائف سپورٹ، کمیونیکیشن اور دستی کنٹرول کے تجربات کریں گے۔

اس مشن کے دوران کرسٹینا کوچ خلا میں زمین کے نچلے مدار سے باہر جانے والی پہلی خاتون اور وکٹر گلوور پہلے سیاہ فام خلا باز ہوں گے۔

ناسا حکام کے مطابق یہ مشن 1972 کے بعد پہلا انسانی سفر ہوگا جو چاند کے گرد مکمل چکر لگائے گا، تاہم خلا باز چاند پر لینڈ نہیں کریں گے۔

یہ مہم مستقبل کے آرٹیمس III پروگرام کی بنیاد فراہم کرے گی، جس کے تحت آئندہ برس چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کا ہدف مقرر ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ راکٹ اور خلائی جہاز کو لانچ پیڈ تک منتقل کرنے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایندھن بھرنے اور حتمی آزمائشوں کا مرحلہ آئے گا۔

کسی بھی تکنیکی خرابی یا خراب موسم کی صورت میں متبادل تاریخیں اپریل کے وسط تک رکھی گئی ہیں۔

ناسا مشن ڈائریکٹر کے مطابق، “یہ ایک آزمائشی پرواز ہے، غیر متوقع حالات آ سکتے ہیں، لیکن خلا بازوں کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔”

Leave a Reply