Posted in

طبی مسائل کے بعد خلاباز مشن ختم کرکے جلد واپس زمین پر پہنچ گئے

طبی مسائل کے بعد خلاباز مشن ختم کرکے جلد واپس زمین پر پہنچ گئے

یہ ناسا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی طبی مسئلے کی وجہ سے خلا بازوں کو پہلے ہی واپس بلایا گیا ہو۔

ناسا نے خلا میں غیر معمولی طبی مسئلے کے بعد خلا بازوں کو جلد واپس زمین پر بلالیا۔

ناسا نے جمعرات کو ایک بیمار خلا باز سمیت تین دیگر خلا بازوں کو زمین پر واپس بلالیا ہے جس کے باعث ان کا خلائی اسٹیشن کا مشن معمول سے ایک ماہ قبل ختم ہوگیا ہے۔ یہ ناسا کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب کسی طبی مسئلے کی وجہ سے خلا بازوں کو پہلے ہی واپس بلایا گیا ہو۔

اسپیس ایکس نے خلا بازوں کی کیپسول کو سان ڈیاگو کے قریب بحر الکاہل میں درمیانی رات میں بحری علاقے میں اتارا۔

 

— NASA HQ PHOTO (@nasahqphoto) January 15, 2026

یہ عمل انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن سے خلا بازوں کے اخراج کے تقریباً 11 گھنٹے بعد مکمل ہوا۔ کیپسول سے اتارنے کے فوراً بعد انہیں ایک ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ناسا کے نئے ایڈمنسٹریٹر جیریڈ آئزاک مین نے کہا ’’ہم نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ یہ ایک سنگین طبی مسئلہ تھا۔ متعلقہ خلا باز اب بالکل محفوظ ہیں، خوش مزاج ہیں اور مناسب طبی معائنہ کر رہے ہے‘‘۔

یہ مشن اگست میں شروع ہوا اور اس دوران اسٹیشن پر صرف ایک امریکی اور دو روسی خلا باز موجود تھے۔ ناسا اور اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ وہ اگلے چار خلا بازوں کے مشن کو جلد شروع کرنے کی کوشش کریں گے جس کا آغاز اب فروری کے وسط میں متوقع ہے۔

واپس آنے والے خلا بازوں میں ناسا کی زیانا کارڈمین اور مائیک فنک شامل تھے جن کے ساتھ جاپان کے کیمیا یوئی اور روس کے اولیگ پلاٹونوو بھی موجود تھے۔

حکام نے اس خلا باز کی شناخت ظاہر نہیں کی جو گزشتہ ہفتے بیماری کا شکار ہوئے اور نہ ہی طبی وجوہات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ناسا کے مطابق خلا باز کی حالت مدار میں مستحکم تھی لیکن انہیں زمین پر فوری طور پر مناسب طبی دیکھ بھال اور تشخیصی معائنہ کے لیے لانا ضروری تھا۔

خلا باز کیپسول سے ایک ایک کر کے تقریباً ایک گھنٹے میں باہر آئے، انہیں مخصوص بستر میں لپیٹ کر طبی معائنہ کے لیے منتقل کیا گیا۔ آئزاک مین نے ہیوسٹن میں مشن کنٹرول سے اس عمل کی نگرانی کی جب کہ اس موقع پر ٹیم کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

ناسا نے واضح کیا کہ یہ کوئی ہنگامی صورتحال نہیں تھی۔ متعلقہ خلا باز 7 جنوری کو بیمار ہوا جس کی وجہ سے اگلے دن کے اسپیس واک منسوخ کیے گئے اور بالآخر مشن جلد ختم کرنا پڑا۔

Leave a Reply