واشنگٹن: فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف فوجداری تحقیقات کے آغاز کے بعد امریکی ڈالر کمزور ہو نا شروع ہوگیا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے خلاف فوجداری تحقیقات کے آغاز کے بعد امریکی ڈالر کمزور ہو گیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پراسیکیوٹرز نے فیڈرل ریزرو کے ہیڈکوارٹر کی 2.5 ارب ڈالر لاگت سے ہونے والی تزئین و آرائش اور جون میں سینیٹ بینکنگ کمیٹی کے سامنے اس منصوبے سے متعلق دیے گئے جیروم پاول کے بیان پر فوجداری تحقیقات شروع کی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک کی ایکس AI نے 20 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی
اس غیر معمولی اقدام کو امریکی مرکزی بینک کی خودمختاری اور ساکھ کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت فیڈرل ریزرو اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہے۔
صدر ٹرمپ بارہا جیروم پاول کو شرحِ سود میں بروقت کمی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
تحقیقات کی خبر سامنے آنے کے بعد جیروم پاول نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فوجداری الزامات کی دھمکی اس لیے دی جا رہی ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود کے فیصلے صدر کی خواہشات کے بجائے عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک نے فیصلے اپنی بہترین پیشہ ورانہ جانچ کی بنیاد پر کیے ہیں۔
جیروم پاول کی بطور چیئرمین مدت مئی میں ختم ہو رہی ہے اور پہلے ہی یہ توقع کی جا رہی تھی کہ صدر ٹرمپ کسی ایسے جانشین کا تقرر کریں گے جو قرض لینے کی لاگت کم کرنے کے لیے زیادہ لچکدار پالیسی اختیار کرے۔
اب فوجداری تحقیقات کی خبر کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آئندہ چیئرمین مالیاتی کے بجائے سیاسی بنیادوں پر فیصلے کر سکتا ہے۔
بروکریج فرم پیپر اسٹون کے سینئر ریسرچ اسٹریٹجسٹ مائیکل براؤن کے مطابق اس صورتحال نے ایک بار پھر امریکی اداروں پر اعتماد کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عمارت کی تزئین و آرائش سے زیادہ فیڈرل ریزرو کی پالیسی خودمختاری پر حملہ ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ اور فیڈ چیئرمین کے درمیان جاری تنازع میں دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔