سی سی ڈی کے 5000 افسران و اہلکاروں نے جرائم کو نتھ کیسے ڈالی ، جو کام پنجاب پولیس کی 2 لاکھ کی نفری نہ کرسکی اسے کیسے ممکن بنایا گیا ؟ سی سی ڈی والے یونیفارم کیوں نہیں پہنتے ؟؟ سی سی ڈی کا طریقہ کار کیا ہے ؟ سی سی ڈی لاہور کے سینئر افسر آفتاب پھلرواں نے اہم باتیں بتا دیں ۔۔۔
آفتاب پھلرواں کا آبائی تعلق اوکاڑہ سے ہے ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی ۔آفتاب پھلروان نے 1993 میں بطور ڈائریکٹ انسپکٹر پولیس ڈیپارٹمنٹ کو جوائن کیا ، لاہور کے 14 تھانوں میں بطور ایس ایچ او خدمات سر انجام دیں ،ڈی ایس پی اور ایس پی رہے اور آج کل ایس پی سی سی ڈی ہیں ۔۔۔ آفتاب پھلرواں نے بتایا کہ سی سی ڈی پنجاب پولیس کا ایک حصہ ہے اور ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ اسکے انجارج ہیں ، انکے ماتحت پنجاب کے تمام ضلع جات کے آر اوز ہیں جن میں ایک میں بھی ہوں ، انکے ماتحت سی سی ڈی کے تمام تھانے اور انکا عملہ ہے، سی سی ڈی ان منظم اور قبیح و سنگین جرائم کو ڈیل کرتی ہے جو معاشرہ میں ناقابل برداشت ہیں یا انکے پیچھے منظم خطرناک گروہ ہیں ، سی سی ڈی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی گروہ کا ایک بندہ ہاتھ لگ جائے اور دوسرے دور دراز علاقوں میں بھاگ جائیں تو انکی معلومات فوری طور پر پورے صوبے میں پہنچ جاتی ہیں ،جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم فوری انکی لوکیشنز ٹریس کرکے متعلقہ ضلع کی سی سی ڈی کو انفارم کرتے ہیں اور ایک گھنٹے میں وہ ہماری تحویل میں ہوتا ہے ۔۔۔سی سی ڈی کو صرف 2 مواقع پر یونیفارم پہننے کا حکم ہے ، ایک جب یہ لوگ ٹریننگ پر جائیں اور دوسرا جب یہ ریڈ کرنے جائیں ۔۔۔اسکے علاوہ سی سی ڈی کے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ ہم نے خطرناک مشنز کو کسی کی نظروں میں آئے بغیر ڈیل کرنا ہوتا ہے ۔ رازداری کے تحت اور منظر عام پر نہ آنے کے لیے سی سی ڈی افسران اور اہلکار سادہ کپڑوں میں جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
سی سی ڈی والے وردی کیوں نہیں پہنتے ۔۔۔۔۔ ؟