معاشی اصلاحات اور روزگار کے فروغ پر وزیر خزانہ اور ورلڈ بینک میں اہم مذاکرات
طویل مدتی فنانس تک رسائی کو معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا
وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان سرمایہ کاری، معاشی اصلاحات اور پائیدار ترقی کے فروغ سے متعلق اہم ملاقات ہوئی، جس میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت پاکستان اور ورلڈ بینک کے باہمی تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے دوران حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کے عزم پر زور دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق فریقین نے نجی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک پر اتفاق کیا، جس کا مقصد کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانا اور معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔
اجلاس میں کاروباری ماحول کی بہتری، سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات اور تجارتی سہولت کاری سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر سرمایہ منڈیوں کی گہرائی بڑھانے اور طویل مدتی فنانس تک رسائی کو معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
ورلڈ بینک کے وفد نے روزگار کے مواقع بڑھانے اور افرادی قوت کی مہارتوں میں بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
وفد کے مطابق آئی ٹی، صحت، نرسنگ اور تعمیرات کے شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پاکستان کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ملاقات میں ڈیجیٹل لیبر مارکیٹ اور بیرون ملک روزگار کے مواقع کے حوالے سے بھی ورلڈ بینک کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق زراعت، معدنیات، صحت اور مینوفیکچرنگ کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا، جبکہ پالیسی بیسڈ گارنٹیز اور جدید فنانسنگ طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران موسمیاتی فنانس اور صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔ فریقین نے مستقبل کے ورلڈ بینک پروگرامز کی تیاری کے لیے تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔